ابنا: سرکاری مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے چاویز 1971 میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وینزویلا کی سرکاری فوجی یونیورسٹی میں داخل ہو گئے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی میں پیرا ٹروپر اور تاریخ کے استاد کی حیثیت سے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کیا.6 دسمبر 1998 وینزویلا کی تبدیلی کا سال تھا جب شاویز ملک کے جوان ترین صدر کے عہدے پر منتخب ہوئے. 56 فیصد ووٹ حاصل کرنے والے شاویز نے فروری 1999 کو با قاعدہ صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا.ایک نئے قانون کے ذریعے صدارت کی مدت کو پانچ سال سے 6 سال میں تبدیل کردیا. ہوگو نے کیوبا سے الائنس اور اتحاد بنانے کا اعلا ن کیا اور اس فیصلہ نے وینزویلا کی قدرت اور طاقت میں اضافہ کر دیا. اور شاویز مشہور ترین لیڈر کے عنوان سے پہچانے جانے لگے.اپنےدوست غریب ممالک کی ہر ممکن مدد اور خود وینز ویلا کی غریب عوام کے لئے اصلاحی پروگرام نے آپ کو عام عوام سے بہت نزدیک کر دیا. اسی لئے عوام آپ کو سن 2006 اور اس کے بعد سن 2012 میں مسلسل منتخب کرتی چلی آئی.شاویز بے شک ایک بڑے سیاست دان تھے اور انہوں نے اپنی اس صلاحیت کو دنیا کے سامنے منوایا بھی. سرکاری ٹیلی وزن پر ہر روز وینزویلا کے مسلح افواج کا سرخ لباس پہنے گھنٹوں عوام سے باتیں کرتے.انکے دور حکومت میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا، وینزویلا کے عظیم سرمایہ یعنی تیل سے حاصل ہونے والی رقم کو تعلیم، غذا، مکانات کے پرویجکٹس، مفت طبی امداد کے اسپتالوں کی پروجیکٹس سمیت مختلف فلاحی پرویجکٹس پر خرچ کیا جس کی وجہ سے غربت اور افلاس میں نمایاں کمی آئی.جون 2011 کو ایک آپریشن کے ذریعے ٹیومر کو انکے بدن سے نکالا گیا جو کہ ایک بیس بال کی گیند کے برابر تھا. متعدد بار آپریشن اور علاج معالجہ کے باوجود 18 مہینوں کے بعد اس مرض نے کینسر کی شکل اختیار کر لی اور یہی بیماری انکی موت کا سبب بنی.آخری وقت تک اپنی بیماری چھپانے والے شاویز خود کو انقلابی اور غریبوں کا نجات دھندہ کا لقب دیتے تھے. دنیا بھر میں آپ امریکی مخالفت کی وجہ سے بہت زیادہ مشہور تھے. سن 2006 میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں امریکی صدر جارج بش کو شیطان کا لقب بھی دیا.
.....
/169