ابنا: ايراني مذاکرات کار علي باقري نے ايران کے سرکاري ٹيلي ويژن چينل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قزاقستان کے شہر آلماتي ميں ہونےوالے مذاکرات ميں ہميشہ کي طرح ايران نے ايک بار پھر منطق، ابتکار عمل اور اقتدار کے اصولوں کي بنياد پر قدم بڑھايا اور اس طرح سے اپني باتيں پيش کيں کہ پانچ جمع ايک گروپ کو ايران کي منطق کو تسليم کرنا پڑا –ايران کي اعلي قومي سلامتي کے ڈپٹي سکريٹري نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايران کي تجاويز کے بار ےميں پانچ جمع ايک گروپ کے جواب نے صہيوني حکومت کي طرف سے ہر طرح کي رخنہ اندازيوں کا راستہ بند کرديا ہے کہا کہ اس وقت مغرب بڑے امتحان سے گذر رہا ہے مگر وہ اس سے اچھي طرح عبور کرسکتا ہے –انہوں نے کہا کہ مغربي ممالک صہيوني حکومت کو کسي بھي طرح کي چھوٹ اور مراعات نہ دے کر اس امتحان ميں سرخرو ہوسکتے ہيں –علي باقري نے آلماتي مذاکرات ميں ايران کے ساتھ پانچ جمع ايک گروپ کے نسبتا مفاہمتي رويے پر اسرائيل اور بعض سخت گير مغربي عناصر کي پريشانيوں کے بارے ميں کہاکہ اسرائيل نے ہميشہ يہ ثابت کيا ہے کہ وہ علاقے ميں بحران کا سبب ہے اور بين الاقوامي اصولوں کي ہميشہ خلاف ورزياں کرتا ہے –
انہوں نے اسلامي جمہوريہ ايران کے بر حق مطالبات کے بارے ميں مغرب کے اقدامات کي تشريح کرتے ہوئے کہاکہ مغربي ملکوں کي پاليسي يہ رہي ہے کہ وہ دباؤ اور مذاکرات کو ايک ساتھ لے کر چليں ليکن اب ان کي سمجھ مين يہ بات آگئي ہے کہ ان کي يہ پاليسي ناکام ہوچکي ہے اور اب مغرب نے ايران کے ساتھ منطقي تعاون اور مفاہمت کا راستہ اپنانے کي کوشش کي ہے -
.......
/169