ابنا:افغان پوليس نے بتايا ہے کہ پير کو کابل ميں ٹريفک پوليس کے ہيڈکواٹر کے سامنے دو خودکش بمبار حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑاليا۔ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ پير کو کابل ميں کم سے کم تين خودکش دھماکے ہوئے ہيں۔ انہوں نے بتايا ہے کہ افغانستان کي ریپڈايکشن فورس نے علاقے کو اپنے کنٹرول ميں لے ليا ہے۔ بعض رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ آٹو ميٹک ہتھياروں سے ليس کئي حملہ آورورں نے ٹريفک پوليس کي عمارت پر حملہ کيا جس کے بعد افغان سيکورٹي اہلکاروں کے ساتھ کافي دير تک مقابلہ جاري رہا۔طالبان کے ترجمان نے ان حملوں کي ذمہ داري قبول کرتے ہوئے دعوي کيا ہے کہ متعدد غير ملکي فوجي ہلاک ہوئے ہيں۔ادھر افغان دارالحکومت کابل کے "دہ مزنگ" کے علاقے میں ٹریفک پولیس کی عمارت پر ہونے والے حملے میں پانچوں حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد آپریشن ختم کردیا گيا ہے۔کابل سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مختلف ہتھیاروں سے لیس 5 حملہ آوروں نے ٹریفک پولیس کی عمارت میں گھس کر سیکورٹی فورسز کے ساتھ تقریبا 8 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ کیا جس کے بعد پانچوں حملہ آور ہلاک ہو گئے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 24 غیرملکی اور افغان فوجی ہلاک اور30 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق کابل پولیس کے ایک اور اعلی عہدیدار محمد ظاہر نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپیشل فورس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال مکمل طور پر پولیس کے قابو میں ہے۔عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ علاقے میں کم از کم 8 دھماکوں کی آواز سنائی دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169 ـ 110
20 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 383674
آٹو ميٹک ہتھياروں سے ليس کئي حملہ آورورں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کے حساس علاقےدہ مزنگ میں ٹريفک پوليس کي عمارت پر حملہ کيا جس کے بعد افغان سيکورٹي اہلکاروں کے ساتھ کافي دير تک مقابلہ جاري رہا۔