اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام نے عید الشہداء کے موقع پر زبردست مظاہرے کئے ہیں اور امریکہ و اسرائیل نواز آل خلیفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام نے مظاہروں کے دوران مطلق العنان خلیفی حکومت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے سکیورٹی دستوں نے پر امن مظاہرین پر وحشیانہ حملے کئے ہیں جس کے نتیجے میں تین خواتین سمیت تیس افراد گرفتار اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں اور دارالحکومت منامہ کی سڑکوں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے سکیورٹی دستوں نے لوگوں کے گھروں پر بھی حملے کئے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین میں 14 فروری 2011 سے جمہوریت کے قیام، غیرجانبدارانہ انتخابات نیز ایک قبیلے کی حکومت، امتیازی رویوں اور آبادی کا ڈھانچہ بدلنے کی غرض سے غیرملکیوں کو شہریت دینے کے سلسلے کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں اور بحرینی انقلاب اور مصر و تیونس کے انقلاب میں کسی قسم کا کوئی فرق نہيں ہے لیکن آل سعود نے اس ملک پر قبضہ کرلیا ہے، امریکہ کا پانچواں بحری اس ملک کے ساحل پر تعینات ہے اور برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے ٹارچر کے ٹارچر کے ماہرین ہزاروں بحرینی قیدیوں کو ٹارچر کرنے کے لئے آل خلیفہ کے کرائے کے غیرملکی گماشتوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور انسانی حقوق و جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اب بھی بحرینی حکومت کی ہمہ جہت حمایت کررہے ہیں اور آل خلیفہ حکومت نام نہاد مہذب دنیا کی نظروں کے سامنے اپنے زیر تسلط ملت بحرین کو حبس بے جا میں رکھے ہوئے ہیں اور سرکاری گماشتے آل سعود اور امریکہ کی مدد سے مظاہرین کو بے دردی کےساتھ کچل رہے ہیں۔ادھر بحرین کی سیاسی جماعتوں نے ایک اجلاس میں آل خلیفہ حکومت کے خاتمے پر زور دیا ہے۔العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت کی پانچ مخالف سیاسی جماعتوں نے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں آل خلیفہ حکومت کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب پر قابض حکومت کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں اسی طرح بحرین میں اصولی تبدیلیاں لانے کے بارے میں ان پانچ سیاسی جماعتوں کے نقطۂ نظر کو بھی بیان کیا گيا ہے۔سیاسی جماعتوں نے بحرین کی سیاسی صورت حال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہیں اور ان سے نکلنے کا واحد راستہ ملک میں جمہوریت کا قیام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110









