ابنا: نئی دھلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج اس ملک کی کئی سیاسی اورمذھبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہوئے ،دھرنے دئیے گئےاور یوم سیاہ منایا گیا۔ آج ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بابری مسجدکی دوبارہ تعمیر، مسجدکو شہید کرنے والوں پر دائر مقدمات کی سماعت کو تیز کرنے اور ذمہ داروں کو جلد ازجلد قرار واقعی سزادئیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر فیض آباد اور ایودھیا میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے پورا شہر قلعے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ انتہاپسند ہندو تنظیم ویشیوا ہندو پریشد 6 دسمبر کو شوریہ دیوس (یوم شجاعت) مناتی ہے جبکہ مسلم تنظیمیں یوم غم مناتی ہیں۔واضح رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو بربریت کا مظاہرہ کرکے شہید کردیا گیا تھا جس کے بعد پورے ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ گذشتہ بیس برسوں سے ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں 49 مقدمے چل رہے ہيں۔ 49 میں سے 22 ملزمین پر لکھنئو میں اور آٹھ پر رائےبریلی میں مقدمے چل رہے ہيں جبکہ نو ملزمان پرکہيں کوئی مقدمہ نہیں چل رہا ہے۔ اس اثناء میں 10 ملزمان اور 50 گواہوں کی موت ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔/110
6 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 370218
ھندوستان میں بابری مسجدکی شہادت کی بیسویں برسی کے موقع پرزبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔