ابنا: واضح رہے کہ اسرائیل میں ایک بارپھرانتخابات ہونےوالےہيں اور زیادہ سےزیادہ ووٹ حاصل کرنےکےلئےغزہ صہیونی سیاستدانوں کااکھاڑابن گیاہے۔جہاں وہ زيادہ سےزیادہ تباہی وبربادی مچاکرصہیونیوں سےزيادہ سےزیادہ مراعات حاصل کرناچاہتےہیں۔ غزہ پٹی پرصہیونی فوج کےتازہ ترین حملےمیں کم سےکم دس فلسطینی شہید اورچالیس سےزيادہ زخمی ہوچکےہيں ۔فلسطین کی وزارت صحت کےترجمان اشرف القدرہ نےکہاہےکہ صہیونی جنگی طیاروں ہیلی کاپٹروں اورٹینکوں نےکل غزہ کےشمالی، مشرقی ، اورجنوبی علاقوں پریلغارکرکےفلسطینیوں کوبڑےپیمانےپرجانی اورمالی نقصان پہنچایا۔لیکن یہ ایک اہم سوال ہےکہ صہیونی فوجیوں کےان وحشیانہ حملوں کامقصدکیاہے؟اس میں کوئی شک نہيں ہےکہ غزہ پرحملےکاکم سےکم نتیجہ یہ نکلےگاکہ کچہ دنوں تک اسرائیل کےاندر بیچینی پیداہوگی اوررائےعامہ کی توجہ مقبوضہ فلسطین میں موجود افراتفری سےہٹ جائےگی بالخصوصی ایسی صورت میں جب غزہ پرحملےکےجواب میں تحریک حماس اس حملےکاجواب دےگی۔ان حالات میں غزہ میں بحران پیداکرنےکامقصد تحریک حماس کےرہنماؤں پردباؤ ڈالنا اوراسرائیلی رائےعامہ کی توجہ صہیونی ریاست کی داخلی صورت حال سےموڑنا ہے۔واضح ہےکہ غزہ پٹی میں حماس کی استقامت وپائداری وہ بھی ایسی حالت میں جب اس علاقےکےعوام کےخلاف صہیونی ریاست کی پابندیوں کوشروع ہوئےچھ مہینےہوچکےہيں اوریہ حکومت اوراس کےمغربی حامی کوئی اورآپشن تلاش کرنےپرمجبورہوگئےہيں بالخصوص ایسےعالم میں جب حماس کواستقامت وپائداری کےراستےسےہٹانےکےلئےتمام ڈپلومیٹک چالیں ناکام ہوچکی ہيں غزہ میں برسوں سےجاری قتل اورغریبی کےباوجود گھنی آبادی والا یہ علاقہ مسلسل محاصرےمیں ہےاوراسرائیل کےفضائی حملوں کانشانہ بن رہا ہے۔انیس سو نوےمیں شروع ہونےوالی تحریک انتفاضہ اول کےوقت سےہی صہیونی حکام نےغزہ کےعلاقےکوتبادہ و برباد کردینےکافیصلہ کرلیاتھا۔غزہ کےعوام نےخالی ہاتھوں سےصہیونی ریاست کی جنگی مشینوں کاڈٹ کرایسامقابلہ کیاکہ اسرائیلی حکام ،غزہ کےعوام کی نابودی کی کھل کرآرزوکرنےلگے۔اوراسی غرض سےصہیونی ریاست نےدوہزارآٹھ میں بائیس روزہ جنگ مسلط کی تاکہ غزہ کامعاملہ ہمیشہ کےلئےختم ہوجائے۔غزہ دوہزارسات سےصہیونی ریاست کےمحاصرےمیں ہے اورغزہ کےعوام نےاس محاصرےاورگاہےبگاہے صہیونی فوج کےحملوں کامقابلہ کرکےشاندارداستان شجاعت رقم کی ہے اوروہ مسلسل اپنی طاقت واقتدارکامظاہرہ کررہے ہیں۔غزہ کارقبہ تین سوپینسٹھ مربع کلومیٹرہے جس نےغاصبوں کی آنکھوں سےنیند اڑا دی ہے۔ان حالات میں کہ جب نتن یاھوکی وزارت عظمی کی مدت میں صرف دومہینےبچےہیں، غزہ کےخلاف نتن یاھوکانیاکھیل شروع ہواہے تاکہ غزہ کےفلسطینیوں کےخلاف انتہاپسندی کی لہرشروع کرکے ایک طرف جنوری دوہزارتیرہ کےانتخابات میں اپنی کامیابی کویقینی بنایاجاسکےاوردوسری جانب داخلی مسائل پرپردہ ڈالاجا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110