9 نومبر 2012 - 20:30

اپنی اس حواس باختگی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرناچاہیے کہ موجودہ صدی میں سائنسی اور نظریاتی تحریکوں کے تیزی سے رشد کرنے کے باعث کوئی میزان اور معیار قائم کئے بغیر موجودہ صورتحال کو سمجھنا کسی کے بس کی بات ہی نہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا

نذر حافی

nazarhaffi@yahoo.com

ہمارے ہاں عام طور پر کسی نظریے، شخصیت یا تحریک کو کسی مسلمہ معیار اور میزان پر پرکھنے کے بغیر ہی اس کے بارے میں رائے قائم کردی جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ عرب دنیامیں چلنے والی موجودہ اسلامی تحریکوں کے ساتھ بھی ہورہاہے۔ کچھ کو تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیاکہہ رہے ہیں ، کبھی قذافی کو مردمومن ، کبھی صدام کو سو سلام، کبھی تونس کو مصر نواز، کبھی القائدہ کو سپاہِ اسلام، کبھی بن لادن کو غازی علم دین، کبھی طالبان کو کربلا کے جانشین، کبھی مصر یوں کو قوم پرست، کبھی حماس کو حزب اللہ نواز، کبھی حزب اللہ کو ایران نوازاور کبھی اخوان المسلمین کواسلام مخالف اور موجودہ انقلابی لہر کو بہارِ عربی کہے جارہے ہیں۔ اپنی اس حواس باختگی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرناچاہیے کہ موجودہ صدی میں سائنسی اور نظریاتی تحریکوں کے تیزی سے رشد کرنے کے باعث کوئی میزان اور معیار قائم کئے بغیر موجودہ صورتحال کو سمجھنا کسی کے بس کی بات ہی نہیں۔ اس صدی میں دوستی اور دشمنی کے معیار ، سوچ کے انداز، فکر کے محور اور نظریات کے قطب تبدیل ہوگئے ہیں جس کے باعث موجودہ صدی میں کئی ممالک ٹوٹے، صاحبانِ تخت ، تختہ دار پر جھولے، تاج تاراج ہوئے اور بادشا گدا بنے۔ تاہم یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں اسلامی دنیامیں جو تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں ، انہوں نے جتنا مشرق میں رہنے والوں کی فکر کو جھنجھوڑا اتناہی اہل مغرب کی فکر کو بھی بیدارکیاہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں مشرقی و مغربی ہر کوئی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے عرب دنیاکی صورتحال سے متاثر ہے۔ ہمیں عرب دنیا میں اسلامی بیداری کی موجودہ لہر کو جانچنے کے لئے سب سے پہلے مرحلہ وار اسلام، مسلمانوں اور انقلاب کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسلام، مسلمان اور انقلابیوں تو دین اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی سیاسی و سماجی فکر، دینی نظریات، حکومتی ڈھانچے حتی کہ عبادات اور رسوم و رواج کو بھی تبدیل کردیاتھا۔ اس دین کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ یہ دین ، دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں انسان کی بھلائی چاہتاہے۔ اس کی تعلیمات میں کشش، اس کے پیغام میں جاذبیّت، اس کے احکامات میں حکمت، اس کے معارف میں نو آوری اور اس کی شریعت میں خلاقیت پائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ خاص کرخودمسلمان اس دین کی قدروقیمت کو ماضی میں اس قدر نہیں سمجھتے تھے جتنا کہ اس صدی میں سمجھنے لگے۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال سے اسلامی دنیا کو جو دھچکالگا تھا اس کے بہت سارے نقصانات کے باوجود ایک فائدہ مسلمانوں کو یہ پہنچاکہ ہر مسلمان کو انفردای طور پر اپنی دینی شناخت اور خودی کی فکر لاحق ہوئی۔ خلافتِ عثمانیہ تک اسلام "بادشاہت" کے پھریرے کے نیچے کھڑا ہونے پر مجبور تھا، خلافتِ عثمانیہ کے بعداسلام کے تحفظ کی ذمہ داری براہِ راست دنیائے اسلام ، خصوصاًعلمائے اسلام کے کاندھوں پر آپڑی۔ اس صدی میں جہاں اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت میں اضافہ ہوا وہیں اسلام دشمنی اور مسلمان کشی نے بھی باقاعدہ ایک مکتب اور سکول آف تھاٹ کی حیثیت اختیار کرلی۔ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے درمیان کبھی روشن فکری اور کبھی شدت پسندی کے نام پر ایسےٹولے اور گروہ بنائے گئے جن کا مقصد صرف اور صرف اسلام کی شناخت کو مسخ کرنا تھا لیکن خدا کی کرنی دیکھیں، اس عمل کا ردّ عمل بھی بہت جلد اور شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ دشمنوں کی طرف سے اسلام کے عقائد پر جتنے زیادہ حملے ہوتے گئے مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لئے اتنے ہی زیادہ فکرمند ہوتے گئے۔ دشمنانِ اسلام نے جتنا بھی اسلام کو محدود کرنے کی کوشش کی عالم بشریت کو اس کی تشنگی اتنی زیادہ محسوس ہوئی اور خصوصاً موجودہ صدی میں جب دین کو افیون کہاجانے لگاتھا تو دنیامیں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں نے دشمنانِ اسلام کے مفروضوں کو باطل ثابت کردیا۔ چنانچہ قیام پاکستان سے لے کر انقلابِ اسلامی ایران تک اور افغانستان سے لے کرعرب دنیامیں موجودہ تحریکوں کے دوران لوگوں نے لاالہ الاللہ کا نعرہ ہی لگایااوراپنی اسلامی شناخت اور دین کی بالادستی کی ہی بات کی۔ اگرچہ یہ حقیقت اظہرمن الشّمس ہے کہ دینِ اسلام جہاں پر بھی گیا اپنے ہمراہ ایک مکمل انقلاب لے کر گیا لیکن اس کے باوجودہم فقط نعروں اور ریلیوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں جگہ پر اسلامی انقلاب ہے اور فلاں جگہ پر غیر اسلامی۔ اب کہاں پر اسلامی انقلاب ہے اور کہاں قومی یا علاقائی ، اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں خود انقلاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انقلاب کہتے کسے ہیں۔۔۔ ؟انقلاب کی گھسی پٹی تعریفوں کو جمع کرنے کے بعد پھر پرانی اور کتابی باتوں کو دہرانے کے بجائے ہم انقلاب کے بارے میں مختصرا عرض کئے دیتے ہیں کہ عام طور پر کہیں بھی اجتماعی تبدیلی کو انقلاب کہاجاتاہے۔ (1)یہ لفظ انگریزی کے کلمے"revolution" اور عربی کے کلمے "ثورہ"کے مترادف ہے۔ محقیقین کے مطابق " لفظِ انقلاب" شروع میں صرف علم نجوم میں استعمال ہوتاتھا اور ستاروں کی حرکت کو انقلاب کہاجاتاتھا۔ یہ اصطلاح یورپ میں سترہویں صدی عیسوی میں اور ایران میں انقلابِ مشروطہ کے دور میں استعمال کی جانے لگی۔ (2)لغت میں انقلاب:لغت میں ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے، بنیادی تبدیلی، گردش ، دور، پرانے سیاسی یامعاشی نظام کی جگہ نئے نظام کا نفاذ نیزمتغیّر ہونے، تہہ و بالاہونے اور پلٹنے وغیرہ کو انقلاب کہتے ہیں۔ (3)اصطلاح میں انقلاب:ارسطو کا نظریہ انقلابارسطو کے نزدیک انقلاب کے دو معنی ہیں:﴿۱﴾ریاست کے مروّجہ آئین میں تبدیلی﴿۲﴾اقتدار کی منتقلیاسی طرح ارسطو نے انقلاب کی دو بنیادی قسمیں بیان کی ہیں:﴿۱﴾مکمل انقلاب ﴿۲﴾نامکمل انقلابارسطو کے نزدیک ایک مکمل انقلاب وہ ہے جو معاشرے کے عمومی سماجی ڈھانچے ، سیاسی نظام کے ڈھانچے اور سیاسی اصولوں میں تبدیلی لائے جبکہ ایک نامکمل انقلاب وہ ہے جس میں مذکورہ تین نکات میں سےکسی ایک نکتے میں تبدیلی آئے۔ (4)ارسطو کے مطابق انقلاب کبھی حکومت کو تبدیل کرنے کا باعث بنتاہے اور کبھی حکومتی ڈھانچے کے اند رہی وقوع پذیر ہوتاہے اور فقط انتقالِ اقتدار کا سبب بنتاہے۔ (5)اصطلاح میں کی گئی انقلاب کی مختلف تعریفوں کو اگر جمع کیاجائے تو کہیں پر بھی ایک اجتماعی تبدیلی کو انقلاب کہاجاتاہے۔ (6)انقلاب شناسی کے سلسلے میں دوسری اہم بحث یہ ہے کہ انقلاب آتا کیسے ہے۔۔۔ ؟انقلاب آتاکیسےہے۔۔۔ ؟یوں تو انسانی زندگی ازل سے ہی مسلسل انقلابات کی زد میں ہے اور اس دنیا میں آج تک ان گنت انقلابات رونما ہو چکے ہیں۔ ارسطو کے مطابق انقلاب کے عمومی طور پر تین سبب ہیں :۱۔ مادی۲۔ فاعلہ۳۔ غائی مادی سبب:انقلاب کا مادی سبب یہ ہے کہ لوگوں کا ایک گروہ اپنے حقوق کا استحصال ہوتے دیکھتاہے تو وہ حکومت سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑاہوتاہے۔ سبب فاعلہ:کچھ لوگ اپنے زیان کے ازالے کے لئے ار اپنے نقصانات کی تلافی کے لئے حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ سبب غائی:یہ سبب دراصل ۹ وجوہات کا مجموعہ ہے۔ وہ نو وجوہات مندرجہ زیل ہیں:حکومتی ادروں کی من مانی، لوگوں کی بے حرمتی، لوگوں کا ذہنی و علمی لحاظ سے مضبوط ہوجانا، لوگوں کا عدم تحفظ کا احساس،۔۔۔۔ (7)راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق بنیادی طور پر انقلاب کسی تبدیلی کی خواہش سے جنم لیتاہے اور اس خواہش کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں:﴿۱﴾انسان فطری طور پر تبدیلی، نوآوری اور خلّاقیّت کادلدادہ ہے چنانچہ وہ ایک مدت کے بعدکسی بھی مروجہ نظام سے اکتاجاتاہے اور اسے تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنے لگتاہے۔ ﴿۲﴾کوئی بھی مروّجہ نظام جب انسان کی مادی و معنوی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتاہے تو انسان اس کاطوق اپنے گلے سے اتار پھینکنے کی فکر کرنے لگتاہے۔ (8)اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ انقلاب کو ن لاتاہے۔ انقلاب کون لاتاہے۔۔۔ ؟کسی بھی معاشرے میں جب فساداور بگاڑ اپنے وجود کااظہار کرنے لگے، عوام کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوجائے تو اصلاح کی ضرورت خود بخود محسوس ہونے لگتی ہے۔ دنیامیں جہاں بھی کرپشن، لوٹ کھسوٹ، ماردھاڑ، دھونس دھاندلی اور استحصال عام ہوجائے وہاں پرلوگوں میں انقلاب کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے اورتبدیلی کی آرزومحسوس ہونے لگتی ہے۔ انقلاب کی خوہش اور تبدیلی کی آرزوجتنی بھی شدیدہوکوئی بھی ملّت اس وقت تک انقلاب برپانہیں کرسکتی جب تک اس کے صاحبانِ فکرودانش اس کی مہار پکڑکرانقلاب کی شاہراہ پراس سے آگے آگے نہ چلیں۔ اگرکسی قوم کی صفِ اوّل دانشمندوں سے خالی ہو توایسی قوم وقتی طور پر بغاوت تو کرسکتی ہے یاپھر کوئی نامکمل یابے مقصد انقلاب تولاسکتی ہے لیکن ایک حقیقی تبدیلی اور بامقصد انقلاب نہیں لاسکتی۔ کسی بھی معاشرے میں دانشمندوں کی حیثیت، بدن میں دماغ کی سی ہوتی ہے، دماغ اگراچھائی کاحکم دے تو بدن اچھائی کاارتکاب کرتا ہے ، دماغ اگر برائی کاحکم دے تو بدن برائی انجام دیتاہے، دماغ اگر دائیں طرف مڑنے کاحکم دے توبدن دائیں طرف مڑجاتاہے اور اگر دماغ بائیں طرف مڑنے کا کہے توبدن۔۔۔ کسی شخص کا اگر دماغ مفلوج ہوجائے تو اس کا باقی بدن باہمی ربط کھو دیتاہے اور وہ الٹی سیدھی حرکات شروع کردیتاہے ، جسکی وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ شخص باگل ہوگیاہے۔ بالکل اسی طرح اگرکہیں پر دانشمند حضرات اچھائیوں کی ترغیب دیں تو لوگ اچھائیوں کی طرف آنے لگتے ہیں اور اگر برائیوں کی تبلیغ کریں تو لوگوں میں برائیاں عام ہونے لگتی ہیں۔ جس ملت کے دانشمند حضرات اپناکام چھوڑدیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کریں تووہ ملت پاگلوں کی طرح الٹی سیدھی حرکات کرنے لگتی ہے اور اس ملت کے کسی بھی فرد کو کچھ پتہ نہیں چلتاکہ اس کے ساتھ کیا ہونے والاہے اور اسے کیا کرناچاہیے۔ چنانچہ ایسی ملتیں غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتی ہیں لیکن اگرکسی ملت کے دانشمند افراد اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے انجام دیں توایسی ملت ہر مشکل سے ٹکرانے اور ہرناممکن کو ممکن بنانے کیلئے تیارہوجاتی ہے۔ یعنی جس ملت کے دانش مند افراد میدان میں رہتے ہیں وہ ملت میدان میں قدم جمائے رکھتی ہے اور جس ملت کے دانشمند افراد میدان خالی چھوڑدیں اس ملت کے قدم میدان سے اکھڑجاتے ہیں۔ المختصریہ کہ اصلاح یا تخریب کا عمل کبھی بھی دانشمندوں کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔ دانشمند نظریات پر کام کرتے ہیں۔ آپ معاشرے میں جیسے نظریات پروان چڑھائیں گے ویسی ہی تحریک چلے گی۔ پس ہر تحریک کے پیچھے ایک اجتماعی شعور موجود ہوتاہے جسے نظریہ کہاجاتاہے دوسرے لفظوں میں کسی بھی تحریک کی قوتِ متحرکہ کانام نظریہ ہے اورہرنظریے کے پیچھے ایک خاص طبقہ سرگرمِ عمل ہوتاہے جو"دانشمند طبقہ"کہلاتاہے۔ یہ طبق