بسم الله الرحمن الرحیم " انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا " 24 ذی الحجه عید مباهله جشن توحید – نبوت و امامت مبارک باد گھر سے مباہلے کے لیے پنجتن (ع) چلے کچھ پھول تھے جو بن کے وقار چمن چلے اس قافلے کی جیت پہ کیوں نہ یقین ہو جس کارواں کی پشت پہ خیبر شکن (ع) چلے ٭٭٭عید مباہلہمباہلہ حق و صداقت کے فیصلے کا واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔عبدالرحمان بن کثير نے جعفر بن محمد (ع)، ان کے والد بزرگوار کے واسطے سے امام حسن (ع) سے نقل کيا ہے کہ مباہلہ کے موقع پر آيت نازل ہونے کے بعد رسول اکرم (ص) نے نفس کى جگہ ميرے والد کو ليا، ابنائنا ميں مجھے اور میرے بھائي کو ليا، نساءنا ميں ميرى والدہ فاطمہ (ع) کو ليا اور اس کے علاوہ کائنات ميں کسى کو ان الفاظ کا مصداق نہيں قرار ديا لہذا ہميں ان کےا اہلبيت (ع) گوشت و پوست اور خون و نفس ہيں، ہم ان سے ہيں اور وہ ہم سے ہيں۔(امالى شیخ طوسى 564 / 1174، ينابيع المودة) زمخشرى کا بيان ہے کہ جب رسول اکرم (ص) نے انہيں مباہلہ کى دعوت دى تو انھوں نے اپنے دانشور عاقب سے مشورہ کيا کہ آپ کا خيال کيا ہے؟اس نے کہا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ محمد اللہ کے رسول (ص) ہيں اور آپ (ص) نے حضرت مسيح (ع) کے بارے ميں قول فيصل سنا ديا ہے اور خدا گواہ ہے کہ جب بھى کسى قوم نے کسى نبى بر حق سے مباہلہ کيا ہے تو نہ بوڑھے باقى رہ سکے ہيں اور نہ بچے پنپ سکے ہيں اور تمہارے لئے بھى ہلاکت کا خطرہ يقينى ہے، لہذا مناسب ہے کہ مصالحت کرلو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ۔دوسرے دن جب وہ لوگ رسول اکرم(ص) کے پاس آئے تو آپ اس شان سے نکل چکے تھے کہ حسين (ع) کو گود ميں لئے تھے، حسن (ع) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے فاطمہ (س) آپ کے پيچھے چل رہى تھيں اور على (ع) ان کے پيچھےـ اور آپ فرما رہے تھے کہ ديکھو جب ميں دعا کروں تو تم سب آمين کہنا۔اسقف نجران نے يہ منظر ديکھ کر کہا کہ خدا کى قسم ميں ايسے چہرے ديکھ رہا ہوں کہ اگر خدا پہاڑ کو اس کى جگہ سے ہٹانا چاہے تو ان کے کہنے سے ہٹا سکتا ہے، خبردار مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور روئے زمين پر کوئي ايک عيسائي باقى نہ رہ جائے گا_چنانچہ ان لوگوں نے کہا يا ابا القاسم ہمارى رائے يہ ہے کہ ہم مباہلہ نہ کريں اور آپ اپنے دين پر رہيں اور ہم اپنے دين پر رہيں؟ آپ نے فرمايا کہ اگر مباہلہ نہيں چاہتے ہو تو اسلام قبول کرلو تا کہ مسلمانوں کے تمام حقوق و فرائض ميں شريک ہوجاؤ۔ان لوگوں نے کہا يہ تو نہيں ہوسکتا ہے۔فرمايا: پھر جنگ کے لئے تيار ہوجاؤ۔کہا: اس کى بھى طاقت نہيں ہے، البتہ اس بات پر صلح کرسکتے ہيں کہ آپ نہ جنگ کريں نہ ہميں خوفزدہ کريں، نہ دين سے الگ کريں، ہم ہر سال آپ کو دو ہزار حلّے ديتے رہيں گے، ايک ہزار صفر کے مہينے ميں اور ايک ہزار رجب کے مہينے ميں اور تيس عدد آہنى زرہيں چنانچہ آپ نے اس شرط سے صلح کرلى اور فرمايا کہ ہلاکت اس قوم پر منڈ لارہى تھي، اگر انھوں نے ملاعنت ميں حصہ لے ليا ہوتا تو سب کے سب بندر اور سور کى شکل ميں مسخ ہوجاتے اور پورى وادى آگ سے بھر جاتى اور اللہ اہل نجران کو جڑ سے اکھاڑ کر پھينک ديتا اور درختوں پر پرندے تک نہ رہ جاتے اور ايک سال کے اندر سارے عيسائي تباہ ہوجاتے۔اس کے بعد زمخشرى نے يہ تبصرہ کيا ہے کہ آيت شريف ميں ابناء و نساء کو نفس پر مقدم کيا گيا ہے تا کہ ان کى عظيم منزلت اور بلندترين مرتبت کى وضاحت کردى جائے اور يہ بتا ديا جائے کہ يہ سب نفس پر بھى مقدم ہيں اور ان پر نفس بھى قربان کيا جاسکتا ہے اور اس سے بالاتر اصحاب کساء کى کوئي دوسرى فضيلت نہيں ہوسکتى ہے۔(تفسير کشاف 1 ص 193 ، تفسير طبرى 3 ص 299 ، تفسير فخر الدين رازى ص8 ص 88 ، ارشاد 1 ص 166 ، مجمع البيان 2 ص 762 ، تفسير قمى 1 ص 104)واضح رہے کہ فخر رازى نے اس روايت کے بارے ميں لکھا ہے کہ اس کى صحت پر تقريباً تمام اہل تفسير و حديث کا اتفاق و اجماع ہے۔طرائف المقال ميں منقول ہے: مأمون عباسي نے امام رضا عليہ السلام کي خدمت ميں عرض کيا: آپ کے جد امجد حضرت علي (ع) کي امامت و خلافت پر دليل کيا ہے؟امام عليہ السلام نے فرمايا: اللہ تعالي کا قول "انفسنا" علي (ع) کي خلافت کي دليل ہے-مأمون نے کہا: ہاں! بشرطيکہ "نسائنا" نہ ہو-امام (ع) نے فرمايا: ہاں بشرطيکہ "ابنائنا" نہ ہو-اور يوں مأمون خاموش ہوگيا- (الکشاف 1/193- تفسير فخر رازي 8/88)حديث کي شرح:علامہ سيد محمد حسين طباطبائي اس حديث کي تشريح ميں لکھتے ہيں:يہ جو امام رضا عليہ السلام نے فرمايا ہے کہ انفسنا سے مراد يہ ہے کہ خداوند متعال نے علي (ع) کي جان کو پيغمبر اکرم (ص) کي جان قرار ديا ہے اور مأمون نے کہا ہے کہ يہ بات درست ہوتي بشرطيکہ نسائنا کا لفظ آيت ميں نہ آتا يعني يہ کہ انفس سے مراد امت کے مرد ہيں چنانچہ يہ کوئي فضيلت نہيں ہے- يہاں امام رضا عليہ السلام نے فرمايا کہ: تمہارا يہ اعتراض يہ ہوتا بشرطيکہ "ابنائنا" کا لفظ نہ ہوتا يعني يہ کہ ابنائنا کا لفظ مأمون کے استدلال کا رد کرتا ہے کيونکہ اگر انفسنا سے مراد مرد ہوتے تو ابنائنا کا لفظ لانے کي ضرورت نہ ہوتي- (تفسير الميزان جلد سوم)زمخشري نے تفسير الکشاف ميں مباہلہ کے بارے ميں لکھا ہے: صبح کا وقت تھا، رسول اللہ (ص) نے امام حسين (ع) کو گود ميں اٹھا رکھا تھا اور امام حسن (ع) کا ہاتھ پکڑ کر تشريف لا رہے تھے اور آپ (ص) کے پيچھے سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہا تھيں جبکہ علي عليہ السلام سيدہ (س) کے پيچھے پيچھے آرہے تھے- رسول اللہ (ص) نے افراد خاندان سے مخاطب ہوکر فرمايا: ميں دعا کرتا ہوں اور تم آمين کہو-نجران کے بشپ نے کہا: اے نجران کے مسيحيو! ميں ايسے چہرے ديکھ رہا ہوں کہ اگر خدا سے التجا کريں کہ پہاڑوں کو اکھاڑ دے تو خدا ان کي خاطر ايسا ہي کرے گا۔......./110-169
7 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363246
" انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا "