ابنا: خبری ذرائع نے ان دو دنوں کے دوران دمشق کے مختلف علاقوں میں مارٹر اور بم دھماکوں کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو گیارہ بتائي ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسی حالت میں شائع ہوئے ہیں کہ جب مصر کی المحیط ویب سائٹ نے بھی لکھا ہے کہ دہشتگرد گروہوں نے شام میں صدر ہاؤس پر متعدد مارٹر گولے داغے جو اپنے نشانے پر نہیں لگے ہیں۔ عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ یہ مارٹر گولے دمشق کے علوی آبادی پر گرے ہیں۔ جن کے نتیجے میں متعدد عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوگۓ ہیں۔ شام کے مسلح دہشتگردوں نے الاخباریہ ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے نامہ نگاروں کو بھی اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ دریں اثناء شام میں کھیلوں کے ٹی وی پروگرام کے میزبان کامل نجمی کا گھر بھی حلب شہر میں دہشتگردوں کے مارٹر گولوں کے حملے میں منہدم ہوگيا ہے اور کامل نجمی خود بھی زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوچکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ شام میں دہشتگرد جو اقدامات انجام دے رہے ہیں وہ واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سب کے باوجود یورپی ممالک دسیوں عام شہریوں کی جانوں کی پرواہ کۓ بغیر شام میں مسلسل مسلح دہشتگردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈیلی ٹیلیگراف نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ برطانیہ شام کے خلاف جنگ میں اپنی موجودگی میں شدت پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ اقدام دمشق میں حکومت کے خلاف برسر پیکار دہشتگردوں کو زیادہ منظم کۓ جانے کی صورت میں انجام پارہا ہے۔ حتی یورپی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے عرب حکام کے ساتھ ملاقات میں اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔برطانوی وزیر خارجہ ویلئم ہیگ نے بھی دوحہ کے دورے کے موقع پر بدھ کے دن شام کی حکومت کے مخالفین کے اجلاس میں شرکت کی اور ان سے کہا کہ وہ شام میں موجود دہشتگردوں کے سرغنوں کے ساتھ اپنے رابطوں کا دائرہ وسیع تر کریں۔اس طرح کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یورپ شام کے حالات کو مزید پیچیدہ کرنے کے لۓ کوشاں ہے جبکہ اس کے برخلاف روس سفارتی طریقوں سے شام کا بحران حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ روس کے وزیر اعظم دیمیتری میدویدوف نے کہا ہے کہ روس کا موقف یہ ہے کہ مذاکرات ہی شام کے بحران کا واحد حل ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت شام کے سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کی مدد کے لۓ مناسب حل تلاش کیا جائے ۔ روسی وزیر اعظم نے شام میں کی جانے والی حالیہ دہشتگردانہ کارروائيوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف شام کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں اور کسی بھی عالمی تنظیم کو اس سلسلے میں مداخلت کا کوئي حق حاصل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پاپ بنیڈیکٹ شانزدہم نے بھی ویٹیکن شہر میں اپنی ہفتہ وار تقریر میں شام کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ شام کے عوام کی مشکلات بہت زیادہ ہیں اور روزانہ متعدد افراد کو مار دیا جاتا ہے۔ میں ایک بار پھر متحارب فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ شام میں قیام امن کے لۓ کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کریں تاکہ شام کے عوام کی مشکلات ختم ہوسکیں۔ یہ اپیل ایسی حالت میں کی گئي ہے کہ جب نہ صرف شام مخالف یورپی عربی اتحاد کے غلط اقدامات کی وجہ سے شام میں امن قائم کرنے سے متعلق شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے سابق نمائندے کوفی عنان کی کوششیں ناکام ہوگئيں بلکہ اب بھی بعض طاقتیں شام کے امور میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے موجودہ نمائندے اخضر ابراہیمی کوششوں کو بھی ناکام بنانے کے لۓ کوشاں ہیں۔...../169
7 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363217
شام کو چند دنوں سے دہشتگردی کی ایک نئي لہر کا سامنا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے واقعات سے دہشتگرد گروہوں اور ان کے حامیوں کی درندگی کا پتہ چلتا ہے۔