ابنا: فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے غزہ پٹی میں محمود عباس کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کے آگے کل سوالیہ نشان لگائے جانے کے کچھ دیر بعد کہا کہ یہ اشتعال انگیز بیانات تقریبا چھ ملین پناہ گزین فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کۓ جانے کے مترادف ہیں۔ فلسطینی عوام کے منتخب وزیر اعظم نے محمود عباس کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کسی فرد اور گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین کی ایک بالشت زمین یا فلسطینی پناہ گزینوں کے وطن واپسی کے حق سے پسپائي اختیار کرے۔نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے دو دن قبل صیہونی حکومت کی تشکیل سے متعلق برطانیہ کی جانب سے انیس سو سترہ کو جاری کۓ جانے والے بالفور اعلامیۓ کے دن دو نومبر کی مناسبت سے اسرائيل کے چینل نمبر دو کو انٹرویو کے دوران فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک پناہ گزینو کی وطن واپسی کا مسئلہ بھلا دیا گيا ہے۔نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کے اس موقف کے خلاف حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق محمود عباس کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہے حالانکہ فلسطین میں کوئي دوسرا شخص اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔ الرشق نے مزید کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو ان علاقوں میں واپس آنے کا پورا حق حاصل ہے جہاں سے صیہونی حکومت نے ان کو نکالا ہے اور اس حق کے بارے میں کوئي سودا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطین کی اسلامی جہاد تنظیم کے ترجمان داود شہاب نے بھی کہا ہے کہ کوئي شخص بھی فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کو پامال نہیں کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ ایسی حالت میں فلسطینی عوام کے مقاصد اور امنگوں سے پے در پے پسپائي اختیار کر رہی ہے کہ جب فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق ،آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل ، فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکے جانے اور صہیونی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی آزادی جیسے امور کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں بھی اہمیت دی گئي ہے۔ ......./169
2 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 361862
فلسطینی حکام اور عوام نے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کےمعاملے سے متعلق نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کی پسپائي کے خلاف احتجاج کیا ہے۔