ابنا: ویزا دستاویزات کے مطابق تاجروں کو ایک سال کا ویزا 10 شہروں کیلئے جاری ہوگا، جبکہ فنکاروں کو ٹرپل انٹری ویزا ملے گا، ویزا دستاویز کے مطابق 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو واہگہ اور اٹاری بارڈر پر پہنچنے پر ویزا ملے گا، جو 45 دن کا ہو گا۔ مریضوں اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لئے ویزے کے حصول میں حائل غیرضروری پابندیاں ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا
دفترخارجہ اسلام آباد میں ہونے والے پاک و ہند وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت حناربانی کھر اور ہندوستانی وفد کی قیادت ایس ایم کرشنا نے کی۔
واضح رہے کہ کل ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان سیاحت سمیت 8 شعبوں میں ویزا پابندیاں نرم کرنے پر متفق ہوگئے تھے۔ ویزا اقسام میں سفارتی، غیرسفارتی، 36/ گھنٹوں کا ٹرانزٹ ویزا اور سیاحت کا ویزا شامل ہے۔ تاجروں، میڈیا کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے عہدیداروں کو ترجیحی بنیادوں پر ویزے فراہم کئے جائیں گے۔ سیاحتی ویزا 6/ ماہ کیلئے پانچ مقامات کیلئے جاری کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی میدان میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، ہندوستان نے اپنی مقامی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے قوانین میں ترامیم کردی ہیں جس کے بعد اب ہندوستان کی مقامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکیں گی۔ ہندوستان کے مرکزی بینک کے مطابق ہندوستانی کمپبنیوں کو پاکستا ن میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ہندوستانی حکومت سے پہلے اجازت لینا پڑے گی۔ اس فیصلے سے قبل ہندوستانی کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی کی اجازت نہیں تھی۔ حال ہی میں ہندوستانی حکومت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ دفاع، جوہری توانائی اور خلائی پروگرام میں سرمایہ کاری کی ممانعت ہے۔
ہندوستان کے وزير خارجہ ايس ايم کرشنا نے پاکستان پہنچنے کے بعد صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ پاکستان مستحکم اور خوشحال رياست ہو، پاکستان کيلئے ہر چيز کرنے کو تيار ہيں، پاکستان اور ہندوستان تمام مسائل پر نتيجہ خيز مذاکرات چاہتے ہيں اور میں ہندوستان کي طرف سے پاکستان کيلئے خير سگالي کا پيغام لايا ہوں۔
پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سيکريٹريز کے مذاکرات کے بعد دونوں خارجہ سيکريٹريوں نے کہا کہ دہشت گردي دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ ہے اسے مل کر حل کريں گے۔ ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سيکرٹري خارجہ جليل عباس جيلاني نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درميان پاني کا مسئلہ اہم ہے، مسئلہ کشمير بھي حل ہونا چاہئے۔
پاکستان وزير خارجہ حنا رباني کھر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ہميں ماضي ميں اختيار کردہ موقف کو اس بات کي اجازت نہيں ديني چاہئے کہ ہمارے آج کے تعلقات کا تعين کريں، ہم نے 45 سالہ پوزيشن بدل لي ہے تو ہندوستان بھی قدم بڑھائے، ہندوستان سے تجارت میں پيش رفت معاملات کا حصہ ہے ، مسئلہ کشمير سرد خانے کي نذر نہيں کيا، مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے جتنا زيادہ ممکن ہو دونوں ممالک کو تعلقات معمول پر لانا چاہئيں۔ حنا رباني کھر نے کہا کہ ہم نے مسئلہ کشمير کو سردخانے کي نذر نہيں کيا۔ ہم اس معاملے کو حل کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اعتماد کي فضا پيدا کر رہے ہيں۔
ہندوستانی وزير خارجہ نے اپنے دورے کے دوران اسلام آباد ميں صدر زرداري اور وزيراعظم راجہ پرويز اشرف سے ملاقاتيں کيں۔ اس موقع پر صدر آصف علي زرداري نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات برابري کي بنياد پر چاہتے ہيں، ہم کشمير سميت تمام تصفيہ طلب معاملات بات چيت کے ذريعے حل کرنا چاہتے ہيں لہذا پاکستان ہندوستان کے ساتھ بامقصد اور نتيجہ خيز مذاکرات چاہتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دونوں ممالک تاجروں اور سرمايہ کاروں کے تيزي سے دوروں کيلئے سہولتيں فراہم کريں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردي مشترکہ دشمن ہے اور دونوں ملکوں کو دہشتگردي کے چيلنجوں سے نمٹنے کيلئے مشترکہ کوششيں کرنا چاہئيں۔ پاکستان دہشت گردي کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاري رکھے گا۔ پاکستان کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درميان تعلقات خراب کرنے والوں کي کوششيں ناکام بنا دي جائيں۔ صدر آصف علی زرداری نے دونوں ملکوں کے درميان دہشت گردي ختم کرنے کيلئے خارجہ، داخلہ اور انٹيلي جنس تعاون پر زور ديا جبکہ پاکستان کے وزيراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بلاشبہ کشمير، سياچن، سرکريک اور دوسرے ايشوز کو حل کرنے کي ضرورت ہے ليکن ہميں ان تنازعات کو حل کرنے کيلئے مثبت سوچ اختيار کرنا ہوگي۔ وزيراعظم راجہ پرويز اشرف نے اس اعتماد کا اظہار کيا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درميان تعلقات بہتر ہونگے اور ہم نے جس سمت کا تعين کيا ہے اس کي جانب آگے بڑھيں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی وزير خارجہ کا دورۂ پاکستان بہت اہم ہے کيونکہ دونوں ملکوں کے عوام اچھے تعلقات چاہتے ہيں ہميں ماضي سے سبق سيکھنا چاہئے ہم ہمسائے تبديل نہيں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردي دنيا ميں کسي بھي جگہ ہو وہ انسانيت کيلئے خطرناک ہے۔ دہشت گردي دونوں ملکوں کي مشترکہ دشمن ہے۔ پاکستان دہشت گردي کے خلاف فرنٹ لائن اسٹيٹ ہے اور اس نے بہت نقصان اٹھايا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے اچھے تعلقات رکھنے پر پاکستان ميں سياسي اتفاق رائے پايا جاتا ہے اس سلسلے ميں انہوں نے حال ہي ميں انڈيا کا دورہ کرنے والے پارليماني وفد کا حوالہ ديا جس ميں تمام سياسي جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ وزيراعظم راجہ پرویز اشرف نے ایس ایم کرشنا سے کہا کہ ہندوستانی وزيراعظم کو ميري نيک خواہشات پہنچا ديں۔ انہوں نے ہندوستانی وزيراعظم کو پاکستان کا دورہ کرنے کي دعوت دي۔
مبصرین کے مطابق ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا دورۂ پاکستان خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ دونوں ملکوں اور عوام اور قیادت کے اندر اب اس بات کا احساس موجود ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے عوام سب سے نقصان اٹھا رہے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ غیرملکی استعماری طاقتیں اٹھا رہی ہیں جو دو بڑے ہمسایوں کو آپس میں لڑا کر اپنے مفادات حاصل کر رہی ہیں۔ مبصرین کے خیال میں اب وقت آ پہنچا ہے کہ دونوں ملک مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں کیونکہ دونوں ملکوں کا ماضی اس بات گواہ ہے کہ جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ان کا سب سے زیادہ خمیازہ ان ملکوں کے عوام نے بھگتا ہے۔ اگر دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جاتےہیں تو اس خطے میں ترقی و خوشحالی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے کیونکہ دونوں ملک ہی افرادی قوت اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں اور اگر اس قوت و وسائل کا صحیح استعمال کیا گيا تو وہ دن دور نہیں کہ جب جنوبی ایشیا کا علاقہ دنیا کا ایک اہم ترین علاقہ بن جائے گا۔ لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب بھی دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کی طرف جانے لگتے ہیں تو ان دیکھے ہاتھ کچھ ایسا کر دیتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں اور حل ہوتے ہوئے مسائل ایک بار پھر گھمبیر صورت حال اختیار کر لیتے ہیں۔ دونوں ملکوں کو دانا دشمنوں کے ساتھ نادان دوستوں سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
.......
/169