21 اگست 2012 - 19:30

صہیونی ریاست کےصحافتی اورسیاسی حلقےآج کل ایران پرحملےکےسلسلےمیں متضاد بیانات دینےمیں سرگرم ہیں۔

ابنا: اس سےقبل،صہبونی حکام نےامریکہ کےساتھ مل کرایران پرایٹمی ہتھیار بنانےکاالزام لگاتےہوئے، ایران کی ایٹمی تنصیبات پرفوجی حملہ کرنےکی دھمکی دیتےرہے ہيں لیکن تہران میں ناوابستہ تحریک کےسولھویں سربراہی اجلاس کاوقت قریب آنےکےساتھ ہی اس نفسیاتی جنگ میں شدت، امریکہ اور صہبونی حکام کےبیانات کامقصد کسی حدتک واضح کردےگی۔

اسرائیلی حکام اگرچہ بعض مواقع پربظاہر مختلف موقف کےحامل نظرآتےہیں لیکن امریکہ کےقدم سےقدم ملاتےہوئے، ایران پرایٹمی ہتھیاربنانے کی کوشش کاالزام لگاتےہوئے،بارہا ایران کی ایٹمی تنصیبات کےخلاف فوجی حملےکی دھمکی دیتےرہےہیں۔

صہبونی اخباریدیعوت احارنوت، نےکچہ دنوں قبل ایھودباراک کےحوالےسے لکھاہے کہ باراک اوبامہ کاکہناہےکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی حملہ،ترجیحات میں ہوسکتاہے لیکن اسرائیل کی سب سےبڑی اپوزیشن جماعت کادیماپارٹی کےسربراہ شاؤل موفاز نےباراک اوبامہ کےبیانات پرردعمل ظاہرکرتےہوئےخبردارکیاہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پرسرائیل کایکطرفہ پیشگی حملہ، اسرائیل کےلئے ہولناک ہوسکتاہے۔

سیاسی حلقوں کاخیال ہےکہ امریکی حکام بعض اختلاف نظرکےباوجود اسرائیل کےساتھ مشترکہ نکات پرتاکیدکرتےہیں۔ اس بنا پروہائٹ ہاؤس کےحکام اس بات پرزوردےکرکہ ایران کےسلسلےمیں تمام آپشن موجود ہیں، انتخابی اورتشہراتی مہم کےذریعے صہبونی  لابی کی خوشنودی حاصل کرناچاہتےہیں۔

البتہ امریکی حکام، ڈیموکریٹ اور ریپبلکنس دونوں کی طرف سے، اسرائیلی دھمکیوں کی براہ راست حمایت کرنےکےبجائے پابندیوں کےساتھ ساتھ گفتگوکی اسٹریٹیجی اختیارکئےہوئےہيں کیونکہ وہ جانتےہیں کہ اسرائیل ایسی پوزیشن میں نہيں ہےکہ ایران پرفوجی حملہ کرسکے۔ صہیونی ریاست کی فوجی صلاحیت کےبارےمیں امریکہ کےتحقیقاتی مرکز کی رپورٹ بھی اسی حقیقت کوظاہرکرتی ہےکہ اسرائیل، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی طاقت کےسامنےکسی بھی طرح کےحملےکی توانائی نہيں رکھتا۔اس رپورٹ کےمطابق اگراسرائیل ایسی کوئی غلطی کرتاہے تو اسےسنگین نقصان اٹھاناپڑےگااوروہ اپنی قبر اپنےہی ہاتھوں کھود لےگا۔

مسلمہ امریہ ہےکہ صہیونی ریاست اس وقت کمرتوڑداخلی بحران سےدوچار ہے اورصہیونی حلقےجانتےہيں کہ امریکی حمایت کےبغیروہ تیزی سےکمزور پڑجائےگااس وجہ سےوہ یہ کوشش کررہے ہيں کہ گوناں گوں بہانوں اورایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کومشکوک بناکر، امریکہ سے مزیدمدد حاصل کریں ۔ اوران کی لفاظی، سیاسی غنڈہ ٹیکس سےزیادہ مشابہ ہے۔اس بنا پروہ ترجیح دے رہےہیں کہ موجودہ حالات میں وہ امریکہ سےمراعات حاصل کرتےہوئے علاقےمیں بحران کھڑاکرنےاور ایران سےخوف زدہ کرنےکی پالیسی پرتوجہ مرکوزرکھناچاہتےہیں۔

یورونیوزپرصہیونی وزیراعظم نتن یاھو کےترجمان مارک رگو کےبیانات اسی نکتےپرتاکیدہیں کہ تمام آپشنس میز پرہیں لیکن ایران پرفوجی حملےکےبارے میں اسرائیل میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے کیونکہ ہم بخوبی جانتےہیں کہ اگرفوجی حملے کافیصلہ کیاگیاتو، بلاشبہ ہمیں اس کےاخراجات برداشت کرنےپڑیں گے۔

ایران کےخلاف امریکہ اوراسرائیل کی مشترکہ نفسیاتی جنگ اورپروپیگنڈہ مہم پرمبنی بیانات سےپتہ چلتاہےکہ وہ ایران کودھمکی دینےکےمشترکہ موقف پرکاربند ہیں جس کی بنیاد، دباؤ میں اضافہ اورموجودہ حالات میں بین الاقوامی سطح پر ایران کوتنہاکرناہے۔ایسےعالم میں کہ اقوام متحدہ کاانفعالی موقف بھی اس کی تائید ہے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری کےترجمان مارتین نسیرکی نےمنگل کےدن ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے اس سوال پرکہ اقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری نے ایران کےخلاف صہیونی ریاست کی دھمکیوں کےبارے میں اب تک کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیاہے کہاکہ میرے پاس کہنےکےلئےکچہ نہيں ہے۔.......

/169