ابنا: امن و سکون کا احساس صحتمند اور سلامتی کے حامل انسان کی اہم ترین خصوصیات میں سے شمار ہوتا ہے۔ روحانی اور نفسیاتی بحران عصر حاضر کے رائج ترین امراض اور بیماریوں میں سے ہے۔ عالمی ادراۂ صحت کے ماہرین کے نزدیک اسی فیصد جسمانی بیماریاں روحانی اور نقسیاتی دباؤ کے ساتھ شروع ہوتی ہیں۔ آج کا انسان ماضی کی نسبت امن و سکون تک رسائی کے راستوں کے بارے میں شائد زیادہ سوچتا ہے۔ انسان مختلف انفرادی اور سماجی میدانوں میں جو سعی و کوشش کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طریقے سےاس کی زندگی سے اضطراب اور پریشانی کا خاتمہ ہوجاۓ۔ اور اس کے بجاۓ اسے آرام و سکون میسر آجاۓ ۔ آج کے دور میں انسان سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت سی مشکلات کو اپنے راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ اور کسی حد تک مادی آسائش سے بھی ہمکنار ہوگيا ہے۔ لیکن سائنس و ٹیکنالوجی بھی اسے روحانی اور نفسیاتی سکون فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مادی وسائل انسان کی روحانی اور معنوی ضروریات کو پورا کرہی نہیں سکتے ہیں۔ اسی لۓ انسان ایک ایسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہے جو اسے آسودگی خاطر سے ہمکنار کرسکتی ہو۔ امن و سکون تک رسائی کی اہمیت اس حد تک ہے کہ حتی اسے ایمان اور دینی عقائد کا مقصد بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لۓ ہم دیکھتے ہیں کہ آخری اور ابدی آسمانی دین کے طور پر اسلام کے نزدیک امن و سکون کو بہت اہم اور جامع مقام حاصل ہے۔ اس الہی دین میں ایمان کا لفظ امن سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہر طرح کے اضطراب ، تشویش اور پریشانی سے انسان کی نجات کے ہیں۔جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ امن و سکون تک انسان کی رسائی اور اس کے ایمان کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انسان کن طریقوں سے تشویش و پریشانی کے سیاہ بادل اپنی زندگی سے دور کرسکتا اور امن و سکون کی وادی میں قدم رکھ سکتا ہے۔ قرآن کریم آخری و ابدی آسمانی کتاب ہے ۔ یہ ایک ایسی بے مثل کتاب ہے جو انسان کے اندر مفید اور موثر تبدیلیاں لا کر اس کے دل کو امن و سکون سے سرفراز کرتی ہے۔ خدا تعالی نے قرآن کریم کو دلوں کو سکون مہیا کرنے والی کتاب قرار دیا ہے۔ اس الہی کتاب نے خدا تعالی کی یاد کو سکون کا واحد ذریعہ بتایا ہے۔ سورۂ رعد کی آیت نمبر اٹھائيس میں ارشاد ہوتا ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ۔۔ آگاہ ہوجاؤ کہ صرف خدا کی یاد سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔ اس آیت شریفہ میں خدا تعالی کو ایسا پشت پناہ گردانا گيا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مادی طاقتوں سے بالاتر طاقت پر ایمان لانے سے کائنات کے بارے میں انسان کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کا یقین ہوجاۓ کہ خدا تعالی کی لایزال طاقت پر ایمان کی بدولت اسے ایک ایسا پشت پناہ مل گيا ہے جس کا کوئي بھی بدل اور ثانی نہیں ہے تو وہ کبھی بھی شدید مشکلات میں پریشانی اور اضطراب کا شکار نہیں ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے عظیم مفسر علامہ طباطبائی نے کہا ہے کہ روحانی سکون اس انسان کو حاصل ہوتا ہے جو دانا و حکیم ہو ، قوت ارادی کا مالک ہو اور ایمان کے بلند ترین درجے پر فائز ہو۔ ایمان ایک ایسی روحانی اور نفسیاتی حالت کا نام ہے جو متقی اور پاکیزہ افراد کو میسر آتی ہے اور ایسے افراد کے ایمان اور تقوے کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ علامہ طباطبائي کا کہنا ہے کہ انسان فطرت ، عقل اور اپنے مفادات کی بنیاد پر عمل کرتا ہے۔ اور امن و سکون کی یہ حالت اس وقت تک انسان پر طاری رہتی ہے جب تک خواہشات نفسانی اس میں کوئی خلل پیدا نہ کردیں۔ نفسیانی رجحانات اور میلانات ہی انسان سے سکون و چین چھینتے ہیں۔ بنابریں انسان کے سکون کی راہ میں ایک اہم ترین رکاوٹ اور اس کی تشویش و پریشانی کا سبب نفسانی خواہشات ہی ہیں۔ نفسانی خواہشات انسان کو اعتدال اور توازن سے دور اور حدو الہی سے تجاوز اور فسق و فجور پر مائل کردیتی ہیں۔ جبکہ قرآن انسان کو اعتدال پسندی کی دعوت دیتا ہے۔ اور وہ اعتدال کو تقوے کے قریب جانتا ہے۔ بنابریں پریشانی کی روک تھام اور روحانی سکون کی بقاء کے لۓ گناہ سے دور رہنا چاہۓ۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر پینتالیس میں خدا تعالی نے گناہ کو انسان کی تشویش اور شک و تردد کا باعث قرار دیا ہے۔ ہر شخص کے روحانی سکون کے درجے اور مرتبے کا انحصار اس کے ایمان پر ہوتا ہے۔ انسان خدا تعالی کی بندگی کے نتیجے میں غیر خدا کی بندگی سے آزاد ہوجاتا ہے۔ انسان کا ایمان جس قدر زیادہ مضبوط ہوتا ہے اسی قدر اس کو زیادہ روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ کم ایمان والے افراد کو سکون بھی کم ہی ملتا ہے۔ خدا تعالی پر ایمان کی وجہ سے انسان کے اندر امید پیداہوتی ہے اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کوئي طاقتور ذات اس کی پشت پناہ ہے ۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف آج یورپ کے دانشمند اور ماہرین نفسیات بھی کررہے ہیں۔ مشہور امریکی ماہر نفسیات ویلیئم جیمز کا کہنا ہےکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ویسے ویسے ہم اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان کے بغیر زندگی گزارنے پر قادر نہیں ہیں۔ ایک اور مقام پر وہ کہتا ہے کہ ایمان ایک ایسی طاقت کا نام ہے جس کے ذریعے انسان زندگی گزارتا ہے۔ اور اس طاقت کے فقدان کا مطلب ناکامی اور زوال ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہےکہ انسان نے پریشانی و تشویش سے نجات اور روحانی سکون کے حصول کے لۓ بہت سے مادی وسائل مہیا کرلۓ ہیں۔ لیکن انسان تمام تر کوشش کے باوجود روحانی سکون تک رسائي حاصل نہیں کرپایا ہے۔ مادی وسائل اس سراب کی مانند ہیں جس کو صحرا میں ایک پیاسا شخص پانی خیال کرتا ہے اور اس کے پیچھے بھاگتا ہے لیکن جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے پانی نہیں ملتا ۔ علامہ طباطبائی اس سلسلے میں کہتےہیں کہ جس شخص نے خدا تعالی کو بھلا دیا ہو اور اس کی یاد سے روگردان ہوچکا ہو اس کے پاس دنیا سے لو لگانے اور اسے اپنا نصب العین قرار دینے کے سوا کوئي چارہ ہی نہیں رہتا ہے۔ نتیجتا ایسا شخص مادی زندگی کے حصول میں مشغول ہوجاتا ہے ۔ دوسری جانب مادی وسائل چاہے کم ہوں یا زیادہ وہ انسان کی روحانی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ انسان جس قدر بھی مادی وسائل حاصل کرلیتا ہے ان پر قانع نہیں ہوتا ہے اور زیادہ کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جس کے نتیجے میں وہ پریشانی اور تشویش میں مبتلاء رہتا ہے۔ خدا تعالی کے ساتھ تعلق اور اس کی یاد مشکلات برداشت کرنےکے سلسلے میں انسان کی طاقت میں اضافہ کرتی ہے اور انسان کی قوت برداشت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو انسان ایمان کے بلند درجے پر فائز ہوتا ہے اسے نہ تو کسی چیز کا خوف لاحق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ تشویش میں مبتلاء ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ خصوصیت خدا تعالی کے ان دوستوں کے لۓ بیان فرمائی ہے جو غیر خدا کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اسے ناپائیدار جانتے ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ سمندر سے آگاہ شخص کی نظر میں ایک قطرے کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے اور جس کی آنکھوں کے سامنے خورشید تاباں ہو وہ ایک شمع کو کیا اہمیت دے سکتا ہے۔ البتہ خدا تعالی کی یاد سے کچھ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کچھ کم۔ ویلیئم جیمز کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ " لوگ اپنے اندر موجود ایک نگہبان کے احساس سے اثر قبول کرنےکے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ بعض افراد کے اندر یہ احساس دوسروں کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے ۔ اور جن کے اندر یہ احساس زیادہ مضبوط ہوتا ہے وہ دوسروں سے زیادہ ایمان دار اور دین دار ہوتے ہیں۔ اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے باطن میں کسی نگہبان کا وجود محسوس نہیں کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ حقیقت میں وہ بھی کسی حد تک دیندار ہی ہوتے ہیں"اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ مادی اور روزمرہ کے امور کی جانب حد سے زیادہ توجہ خالق کائنات کی ضرورت کے احساس کے ظہور کی روک تھام کردے لیکن یہ احساس ہر انسان کے باطن میں پایا جاتا ہے۔ شدید پریشانی کے وقت جب انسان کو کوئي مددگار نہیں ملتا ہےتو وہ خدا کی جانب ہی رجوع کرتا ہے ۔ قرآن کریم کی سورۂ عنکبوت میں اس سلسلے میں آیا ہے کہ " جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو بڑے خلوص کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں ۔ لیکن جب خدا ان کو خشکی تک پہنچا دیتا ہے اور نجات دے دیتا ہے تو وہ پھر مشرک ہوجاتےہیں "عالم اسلام کے عظیم مفکر آیت اللہ مرتضی مطہری خدا تعالی کی یاد اور عبادت کے بارے میں کہتے ہیں :انسان خدا کی یاد کے ساتھ اس حق اور حقیقت پر توجہ دیتا ہے جس نے اسے خلق کیا ہے۔ اور خود کو اس کی بارگاہ کا محتاج جانتا ہے۔ خدا تعالی کی یاد درحقیقت خلق سے خدا کی جانب حرکت کرنے کا نام ہے ۔ جو کہ انسان کی ایک روحانی ضرورت ہے۔ اس مسئلے پر توجہ نہ دینا انسان کی روح کے غیر متوازن ہونے کا باعث بنتاہے۔ ڈاکٹر الیکسس کارل نے بھی اپنی کتاب لکھا ہے کہ " دعا کے وقت انسان اپنی محدود توانائي کو توانائي کے بے کراں چشمے سے متصل کرتا ہے ۔ ہم دعا کے وقت ساری کائنات پر محیط طاقت کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرلیتے ہیں۔" اس میں شک نہیں کہ سمندر کی بالائي سطح پر طوفانی موجوں کی وجہ سے اس کی تہہ میں پاۓ جانے والے ٹھہراؤ میں کوئي ہلچل پیدا نہیں ہوتی ہے ۔ اسی طرح جو شخص عظیم معنوی حقائق کا سہارا لیتا ہے وہ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز کی بنا پر تشویش میں مبتلاء نہیں ہوتا ہے ۔ کیونکہ جو اپنے امور کا نتیجہ خدا تعالی کے سپرد کرتا ہے اور اسے اپنا تکیہ گاہ اور اپنے امور کا نگہبان جانتا ہے وہ اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا اور وہ ایمان کی بدولت نفسیاتی دباؤ پر غلبے کا بہترین راستہ اختیار کرتا ہے۔مترجم : سید گلشن عباس نقوی
.......
/169