ابنا: ہيومن رائٹس واچ اور جنرنلسٹ بيانڈ دي بارڈر کے مطابق متحدہ عرب امارات کي حکومت نے حاليہ چند روز کے دوران سياسي کارکنوں کے خلاف زبردست کريک ڈاون کيا ہے اور پچاس سے زيادہ سياسي کارکنوں کو جن ميں کئي صحافي، اور سياستداں شامل ہيں حکومت مخالف سرگرميوں ميں ملوث ہونے کے بے بنياد الزامات لگا کر جيل روانہ کرديا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے عرب ملکوں ميں عوامي انقلابي تحريک کے آغاز ميں سياسي کارکنوں پر دباؤ بڑھا ديا تھا تاکہ متحدہ عرب امارات ميں انقلاب کے اثرات سرايت نہ کرسکيں۔قبل ازيں ہيومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات کي حکومت سے اپيل کي تھي کہ ملک ميں انساني حقوق کے لئے کام کرنے والوں کے قانوني حق کا پورا پورا خيال رکھے اور تمام گرفتار شدہ گان کو فوري طو پر رہا کردے۔انساني حقوق کے عالمي ادارے نے انساني حقوق کے کارکنوں کے خلاف منصفانہ طريقے سے مقدمہ چلائے جانے کي کا بھي مطالبہ کيا تھا۔ہيومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں اور جمہوريت کے فقدان پر امريکہ اور برطانيہ کي خاموشي پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے سياسي کارکنوں کي غير مشروط رہائي کے لئے متحدہ عرب امارات کي حکومت پر دباؤ ڈالنے کي اپيل کي ہے۔دعوت و اصلاح تحريک نے بھي جسکي سرگرميوں پر متحدہ عرب امارت ميں پابندي لگادي گئي ہے، ايک بيان جاري کيا گيا ہے جس ميں تحريک کے بعض کارکنوں کي گرفتاريوں کي مذمت کي گئي ہے۔بيان ميں کہا گيا ہے کہ گرفتارشدہ گان کو جيل اور تشدد اور ايذار رساني کا نشانہ بنايا جارہا ہے۔دعوت و اصلاح تحريک کے ترجمان شيخ احمد صقر، ممتاز سياستداں اور مصنف خالد اليماجي، معروف وکيل اور انساني حقوق کے کارکن محمد الرکن اور شيخ سلطان بن کائد جيسی بہت اصلاح پسند شخصيات کو متحدہ عرب امارات کي پوليس نے گرفتار کر کے جيلوں ميں بند کرديا ہے۔ايک اور اطلاع يہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے ملک کے اندر الامہ نامي سياسي جماعت کے قيام پر شديد برہمي کا اظہا کيا ہے۔جمعرات کو الامہ کے قيام کے اعلان کے محض چند گھنٹے بعد امور خارجہ کے مشير انور قرقاج نے اس کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کے قيام سے ملک ميں فتنہ پيدا ہوگا۔الامہ کے باني اور سرگرم سياسي کارکن حس احمد الدقي نے تنظيم کے قيام سے دو روز قبل کہا تھا کہ ملک ميں آزادي اظہار اور حکومت ميں عوامي شراکت جيسے بنيادي حقوق پامال کئے جارہے ہيں۔ انہوں نے کہا تھا کہا اسلامي رجحان رکھنے والي جماعت الامہ کے قيام سے حکومت ميں عوام کي شرکت کا راستہ ہموار کرنے کي کوشش کي جائے گی۔
.......
/169