ابنا: ہندوستاني پوليس نے بتايا ہے کہ ان فرقہ وارانہ فسادات ميں اب تک بيس سے زائد افراد مارے جاچکے ہيں۔ پوليس کے مطابق نيم فوجي دستوں اور پوليس کي بھاري نفري کي تعيناتي کے باوجود کھوکھرا جھار اور اس کے آس پاس کے علاقوں ميں بوڈو قبائل اور مسلمانوں کے درميان فرقہ وارانہ فسادات رکنے کا نام نہيں لے رہے ہيں۔حکام نے پوليس اور نيم فوجي دستوں کو حکم دے ديا ہے کہ وہ فساديوں کو ديکھتے ہي گولي مار ديں۔ آسام کے کھو کھرا جھار اور ديگر علاقوں ميں اس بڑے پيمانے پر ہونےوالے فرقہ فسادات کے بعد ٹرينوں کي آمدو رفت بند ہوگئي ہے۔ يہ فسادات اس وقت بھڑک اٹھے جب جمعرات کي رات بوڈو قبائل کے افراد نے دو مسلمان طلباء کو گولي مار ہلاک کرديا تھا۔اس واقعے کے بعد کھوکھرا جھار - دوبري اور چرنگا اضلاع ميں فسادات تيزي کے ساتھ پھيل گئے اور بوڈ قبائل کے ذريعے مسلم علاقوں پر حملے تيز کردئے گئے - علاقےميں کرفيو نافذ کرديا گيا ہے اس کے باوجود مزيد چار لاشيں کھوکھرا جھار ميں ملي ہيں۔ خراب حالات کي وجہ سے پچاس ہزار افراد کو چاليس سے زائد کيمپوں ميں منتقل کيا گيا ہے۔
.......
/169