9 جولائی 2012 - 19:30

سعودي عرب ميں اسلامي بيداري ميں شدت آنے کے بعد امريکا کي تشويش بڑھ گئي ہے چنانچہ امريکا کے خفيہ ادارے سي آئي اے کے سربراہ غير متوقع طور پر جدہ پہنچ گـئے ہيں.

ابنا: امريکا کي بدنام زمانہ جاسوسي کي تنظيم سي آئي اے کے سربراہ ڈيوڈ پٹريئس نے جدہ ميں  سعودي عرب کے فرمانرواشاہ عبداللہ کو امريکي صدر اوباما کا تحريري پيغام پيش کيا.

سعودي عرب کي سرکاري خبررساں ايجنسي نے اوباما کے تحريري پيغام کے مندرجات کي جانب کسي بھي طرح کا کوئي اشارہ کئے بغير کہاکہ فريقين نے دوطرفہ دلچسپي کے معاملات اور علاقے کي صورتحال  پر تبادلہ خيال کيا -

    يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ايک عرب ويب سائٹ نے امريکي حکام کے سعودي عرب کے خفيہ اور اعلانيہ دوروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے علاقے کي صورتحال کے سلسلے ميں امريکا کي پريشاني کا اندازہ لگايا جاسکتا ہے - الحرمين ويب سائٹ نے سعودي عرب کے بارے ميں امريکا کي تشويش کے زيرعنوان ايک کالم ميں لکھا ہے کہ امريکا کو آل سعود خاندان کے مستقبل پر کافي تشويش ہے.

اس ويب سائٹ نے لکھا ہے کہ امريکا کے اسٹرٹيجک اتحاديوں کو ان دنوں اپني اندروني مشکلات اور اعلي حکام کي بيماريوں کا سامنا ہے - ان دنوں امريکي حکام کے سعودي عرب کے خفيہ اور اعلانيہ دوروں ميں تيزي آئي ہے.

سياسي تجزيہ نگاروں اور ذرائع ابلاغ کا اس سلسلے ميں کہنا ہے کہ امريکا علاقے ميں رونما ہورہي تبديليوں سے بري طرح خائف ہوتا جارہا ہے -

مذکورہ ويب سائٹ نےلکھا ہے کہ سي آئي اے کے بعض افسران بھي امريکي حکام کے ہمراہ سعودي عرب کے دورے کر رہے ہيں - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ سعودي عرب کے اعلي حکام کي جسماني حالت اور بيماريوں کي خبريں بھي تيزي سے سامنے آرہي ہيں وہ بھي ايک ايسے وقت جب ملک ميں عوامي مظاہروں کا دائرہ پھيلتا جارہا ہے-

مبصرين کا کہنا ہے ان حالات ميں سعودي عرب ميں کيا ہوسکتا ہے اس بارے ميں کچھ بھي نہيں کہا جاسکتا -

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ غالبا سعودي عرب کے داخلي سياسي نقشے ميں کچھ اس طرح کي تبديليوں پر غور کيا جارہا ہے جو علاقے ميں سعودي عرب کے کردار کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ امريکي مفادات کا بھي تحفظ کرے -

     لبنان سے شائع ہونےوالے ہفت روزہ جريدے المنار نے بھي لکھا ہے کہ ايسا لگتا ہے کہ اب سعودي عرب ميں بڑے پيمانے پر تبديلياں رونما ہوا چاہتي ہيں، ايسي تبديلياں جو سب کو چونکا دينے والي ہوسکتي ہيں –

اس ہفت روزہ جريدے نے اپنے اس دعوے کي دليل ميں امريکي حکام کے سعودي عرب کے خفيہ اور اعلانيہ دوروں کو پيش کيا ہے اور خاص طور پر امريکي وزارت خارجہ ميں مشرق وسطي کے امور کے شعبے کے حکام کے سعودي عرب کے مسلسل دوروں اور سي آئي اے کے سربراہ کے تازہ ترين دوروں کا  سعودي عرب ميں رونما ہورہي تبديليوں کے تناظر ميں ہي جائزہ ليا ہے –

   سعودي عرب کے شاہي خاندان کے اندر جاري کشيدہ صورتحال کے بارے ميں باخبر ذرائع سے موصولہ خبروں ميں بتاياجارہا ہے کہ سعودي وليعہد نائف بن عبدالعزيز کي موت کے بعد اس وقت اس ملک کو شاہ عبداللہ کي بيماري جيسے سنگين چيلنج کا سامنا ہے.

چنانچہ خود سعودي عرب اور علاقے کے سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ کے مرنے اور سعودي شہزادوں ميں اقتدار کي جنگ کے بعد اس خاندان کي حکمراني کا خاتمہ غير متوقع نہيں ہے -

   بہرحال سعودي عرب ميں امريکا کے اسٹريٹجک مفادات ہيں اور علاقے ميں آل سعود خاندان امريکا کي ڈکٹيٹ کي ہوئي پاليسيوں پر جس طرح سے من وعن عمل کرتا ہے اس کے پيش نظر آل سعود خاندان کي سرنگوني علاقےميں امريکا کے مفادات کو برطرح خطرے سے دوچار کرسکتي ہے -.......

/169