31 اگست 2026 - 16:08
ابوعبیدہ؛ نقاب پوش ترجمان جو غزہ کے عوام کے درمیان رہا

فلسطینی مزاحمت کے ترجمان ابوعبیدہ کی پہلی برسی کے موقع پر ان کے بھائی نے پہلی بار ان کی نجی زندگی، غزہ کی جنگ کے بارے میں ان کے خیالات اور شمالی غزہ میں رہنے کے فیصلے سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق ابوعبیدہ خطرات سے پوری طرح آگاہ تھے، اس کے باوجود انہوں نے غزہ کے عوام سے الگ ہونے کے بجائے انہی کے درمیان رہنے کو ترجیح دی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مزاحمت کے معروف ترجمان حذیفہ الکحلوت المعروف ابوعبیدہ کی پہلی برسی کے موقع پر ان کے بھائی عبداللہ الکحلوت نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

عبداللہ الکحلوت کے مطابق ابوعبیدہ اپنی نجی زندگی اور عوامی کردار کے درمیان واضح فرق رکھتے تھے اور شہرت ان کا مقصد نہیں تھی۔ ان کی میڈیا میں موجودگی اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے فلسطین اور مزاحمت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے تک محدود تھی۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ کی جنگ کے دوران ابوعبیدہ خود کو وہاں کے عوام سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ بھوک، محاصرے، اسرائیلی بمباری اور زندگی کی شدید مشکلات کا سامنا کیا۔

ان کے بھائی کے مطابق ابوعبیدہ غزہ کی جنگ کو محض ایک وقتی واقعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے فلسطین پر طویل عرصے سے جاری قبضے، محاصرے اور تنازع کے تناظر میں دیکھتے تھے۔

عبداللہ الکحلوت نے کہا کہ ابوعبیدہ فلسطینیوں کے اپنے وطن اور حقوق کے دفاع کے حق پر یقین رکھتے تھے، تاہم وہ جنگ کے انسانی نقصانات اور فلسطینی خاندانوں و معاشرے پر پڑنے والے اثرات سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔

انہوں نے اپنے بھائی کے حوالے سے فلسطینی عوام کے ساتھ عالمی اور علاقائی رویے پر مایوسی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ابوعبیدہ کا خیال تھا کہ خطے کے ممالک اور عوام کے پاس مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہے اور اگر ان وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔

ابوعبیدہ کے بھائی نے بتایا کہ انہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر میں بڑے پیمانے پر کارروائی کے خطرے کا اندازہ تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے شمالی غزہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔

ان کے مطابق یہ فیصلہ خطرے سے بے خبری کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ابوعبیدہ کا مؤقف تھا کہ جنگ کے دوران ان کی زندگی غزہ کے عام لوگوں کی زندگی سے الگ نہیں ہونی چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے ان لوگوں کے درمیان رہنے کا فیصلہ کیا جن کے مسائل اور حالات کی وہ برسوں سے دنیا کے سامنے ترجمانی کرتے رہے تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha