31 اگست 2026 - 16:29
رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای؛ محروموں کی خدمت اور فلاحی مراکز کے قیام کی ایک خاموش داستان

رہبر معظم انقلاب  آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی علمی و سماجی زندگی کا ایک نمایاں پہلو محروم اور ضرورت مند افراد کی خدمت ہے۔ ان کے قریبی لوگوں اور شاگردوں کے مطابق انہوں نے نہ صرف خود ضرورت مند خاندانوں کی مدد کی بلکہ ایسے فلاحی مراکز بھی قائم کیے جہاں ہزاروں غریب خاندانوں کو طویل عرصے تک مسلسل امداد فراہم کی جاتی رہی، تاہم ان خدمات میں ان کا نام نمایاں کرنے کے بجائے مستحق افراد کی عزتِ نفس اور رازداری کو ترجیح دی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی علمی، سماجی اور انتظامی زندگی سے متعلق سلسلہ وار تحریر کے دوسرے حصے میں محروم اور ضرورت مند افراد کی خدمت کے حوالے سے ان کی سرگرمیوں کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں۔

تحریر کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے محض ایک ذاتی عادت نہیں بلکہ ایک ایسی خاندانی روایت رہی جسے انہوں نے بچپن سے اپنے گھر میں دیکھا اور بعد میں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔

جب وہ صرف 9 برس کے تھے تو ستمبر 1978 میں طبس میں آنے والے زلزلے کے بعد انہوں نے اپنے والد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو زلزلہ متاثرین کی مدد کرتے دیکھا۔ بعد کے برسوں میں وہ اپنی والدہ کے ہمراہ خاموشی سے شہر کے غریب خاندانوں کے گھروں میں بھی جاتے رہے۔

ان کی والدہ ضرورت مند خاندانوں، خصوصاً غریب لڑکیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے اور دیگر سامان تیار کرکے ان کے جہیز میں مدد کیا کرتی تھیں۔ تحریر کے مطابق بعض مستحق لڑکیوں کو یہ معلوم تک نہیں ہوتا تھا کہ ان کے لیے تیار کیا گیا سامان کس نے بنایا ہے۔

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی والدہ کو غریب خاندانوں کی حالت دیکھ کر کئی مرتبہ شدید متاثر ہوتے دیکھا۔ ان کے ایک شاگرد کے مطابق انہوں نے ایک موقع پر بتایا کہ ان کی والدہ بعض اوقات غریبوں کے گھروں سے واپس آنے کے بعد اتنی پریشان ہوتیں کہ کھانا بھی نہیں کھا پاتی تھیں۔

تحریر میں بتایا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ زہرا حداد عادل نے بھی تہران کے محروم علاقوں، خصوصاً ہرندی کے علاقے میں ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دیں۔ وہ امام سجاد مسجد میں بھی ایسی نشستیں منعقد کرتی تھیں، تاہم ان کی شناخت عام لوگوں سے پوشیدہ رکھی جاتی تھی۔

خود غربت اور قرض کا تجربہ

تحریر کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے خود بھی غربت، قرض اور مالی مشکلات کا تجربہ کیا۔ اس سلسلے میں ’المہدی‘ مدرسے کے قریب ایک دکاندار کا ذکر کیا گیا ہے جو 1990 کی دہائی میں ان کے اور ان کے بھائی کے نام اپنی دکان کے ادھار کے رجسٹر میں درج کرتا تھا تاکہ بعد میں انہیں ملنے والے ماہانہ وظیفے سے رقم وصول کی جاسکے۔

اسی ذاتی تجربے نے محروم افراد کی مشکلات کو سمجھنے میں بھی ان کے کردار کو متاثر کیا۔

ان کے ایک شاگرد کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سماجی خدمت، خصوصاً غریبوں کی مدد، کو اپنی سرگرمیوں کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔ وہ طلبہ کو فلاحی سرگرمیوں، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد میں حصہ لینے کی مسلسل ترغیب دیتے تھے۔

ہزاروں محروم خاندانوں کے لیے فلاحی مراکز

تحریر کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے مختلف فلاحی ادارے بھی قائم کیے۔ ان اداروں کے ذریعے دسیوں ہزار محروم افراد اور خاندانوں کو مسلسل مدد فراہم کی جاتی رہی۔

ان فلاحی اداروں میں مستحق افراد کی عزتِ نفس کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا۔ ضرورت مند خاندانوں کی حقیقی صورتحال جاننے کے لیے کارکنوں کو ان کے گھروں تک بھیجا جاتا، جبکہ ایسے خاندان جن کی کفالت خواتین کے ذمے ہوتی، ان کے حالات جاننے کے لیے خواتین کارکنوں کو بھیجا جاتا تھا۔

تحریر کے مطابق ان تمام سرگرمیوں میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ظاہر نہ کرنے پر زور دیا جاتا تھا اور بعض خدمات کو مقامِ معظم رہبری کے دفتر سے منسوب کیا جاتا تھا۔

قم کے مختلف علاقوں، جن میں جعفریہ، کہک، قمرود، قنوات، نیروگاہ اور خاکفرج شامل ہیں، کے بہت سے محروم خاندان یہ سمجھتے رہے کہ انہیں گمنام مخیر افراد یا رہبری کے دفتر کی جانب سے مدد فراہم کی جارہی ہے۔

غریبوں کے لیے علاج اور طبی سہولتیں

تحریر میں بتایا گیا ہے کہ محروم افراد کے لیے طبی سہولتوں کی فراہمی بھی ان سرگرمیوں کا حصہ تھی۔ قرآن و عترت کلینک جیسے بعض طبی مراکز میں غریب مریضوں کو انجیکشن اور ڈرپ لگانے سے لے کر دانتوں کے علاج تک مختلف سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں۔

تحریر کے مطابق ان خدمات کے اخراجات عوامی عطیات سے پورے کیے جاتے تھے اور متعلقہ طبی عملے میں سے بہت سے افراد کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ان خدمات کے پیچھے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی کوششیں شامل ہیں۔

سیلاب اور کورونا کے دوران طلبہ کی خدمت

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی سماجی سرگرمیوں میں قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد بھی شامل رہی۔ تحریر کے مطابق خوزستان میں سیلاب کے دوران انہوں نے اپنے تدریسی سلسلے کو روک کر طلبہ کو متاثرین کی مدد کے لیے بھیجا۔

اسی طرح کورونا وبا کے دوران ان کی نگرانی میں چلنے والے بعض دینی مدارس کو مریضوں کے لیے جوس اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے کے مراکز میں تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے طلبہ کو کورونا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی غسل و تدفین میں بھی حصہ لینے کی ترغیب دی تاکہ مشکل ترین حالات میں بھی ضرورت مند خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔

’جتنا کمزور اور بے سہارا شخص ہو، اتنا ہی اہم ہے‘

ان کے شاگردوں کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اکثر کہتے تھے کہ جتنا کوئی شخص کمزور، بے سہارا اور بے مددگار ہو، اس کی مدد اتنی ہی زیادہ اہم ہے۔

خوزستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے بعد اپنے طلبہ کی کارکردگی سن کر انہوں نے کہا تھا کہ عوام کی خدمت ایک طالب علم کی شناخت کا حصہ ہے اور لوگوں کی خدمت کے ذریعے طلبہ کے لیے علم کے نئے راستے بھی کھلتے ہیں۔

تحریر کے مطابق وہ اپنے والد کی بعض کامیابیوں کو بھی محروم افراد کی خدمت سے جوڑتے تھے اور طلبہ کو اس جانب خصوصی توجہ دینے کی تلقین کرتے تھے۔

محروموں کی خدمت کو معمولی نہ سمجھیں

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے محروم افراد کی خدمت کی تاکید صرف دینی مدارس یا طلبہ تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنے انتظامی اور غیر دینی شعبوں کے ساتھیوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔

تحریر کے مطابق انہوں نے انتظامی اور علمی امور سے وابستہ اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ محروم افراد کی مدد کو معمولی نہ سمجھیں؛ اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے، جبکہ دیگر کام بھی اپنی جگہ جاری رہنے چاہییں۔

تحریر کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی سماجی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد، ان کی عزتِ نفس کا تحفظ اور مسلسل خدمت ان کے نزدیک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری تھی۔

جاری ہے۔۔۔

حوالہ جات: فریدالدین حداد عادل سے گفتگو، ڈاکٹر حداد عادل کی گفتگو، اسکندر حسین اف سے گفتگو اور آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے شاگردوں حجۃ الاسلام رضا علی آبادی اور حجۃ الاسلام محمد جواد اکبری سے گفتگو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha