ابنا: ریچرڈفالک نے مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کی چارفریقی کمیٹی کےنمائندے ٹونی بلئر پر تنقیدکرتےہوئےکہاکہ ٹونی بلئر نےامن کےعمل کاجائزہ لینےکےلئےمشرق وسطی کاچھیاسی دورہ کیالیکن کوئی تجویزپیش نہيں کی۔ریچرڈ فالکس نے جینواميں اقوام متحدہ کےدفترمیں خطاب کرنےکےبعد صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےکہاکہ اسرائیل کےقوانین میں فلسطینیوں کوکسی طرح کا کوئی حق نہيں دیاگیاہےاوران کارویہ آپارتھائيڈ دورجیساہے۔انھوں نےصیہونی حکومت کےامتیازی قوانین کوجنوبی افریقہ کےاپارتھائيڈ دورسےتشبیہ دیتےہوئےکہاکہ میں سمجھتاہوں کہ کوئی ایساپیداہوناچاہئےجو حقائق سےپردہ اٹھائے۔ریچرڈ فالک کےبیانات عالمی برادری کواس امرکی جانب متوجہ کررہےہيں کہ صیہونی حکومت کی ماہیت نسل پرستانہ اورامتیازی سلوک پرمبنی ہے۔فلسطینیوں کےخلاف صیہونی حکومت کےمجرمانہ اقدامات حتی خود اپنےشہریوں کےساتھ اس حکومت کےغیرانسانی رویےکی جڑیں بھی اس کی نسل پرستانہ ماہیت میں تلاش کرناچاہئے۔صیہونی حکومت کےاقدامات ، نازی ازم ، فاشیزم اوراپارتھائيڈ دورکی مانند ہیں اوریہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااقوام متحدہ کےبعض حکام سمیت بہت سی بین الاقوامی شخصیتیں بھی اعتراف کرتی ہيں ۔ریچرڈ فالک کےبیان میں دوسراقابل غورنکتہ، مشرق وسطی کےنام نہاد امن کےعمل کی حقیقت سےپردہ اٹھاناہے ۔ریچرڈ فالک نےایک بیان میں مشرق وسطی کےامن کےعمل کو ایک دھوکےسےتعبیرکیااورکہاکہ اس سلسلےمیں انجام پانےوالےاقدامات کافلسطینیوں کوکوئی فائدہ نہيں پہنچاہے۔ریچرڈ فالک کےبیانات درحقیقت فلسطینیوں کےلئےسازبازکےعمل کےنتائج کی طرف اشارہ ہيں جس کاصیہونی حکومت کی تسلط پسندانہ اورمجرمانہ پالیسیوں کےسواکوئي نتیجہ نہيں نکلاہے۔ صیہونی حکومت سازبازکےعمل کوعلاقےمیں اپنےتوسیع پسندانہ مقاصدکوآگےبڑھانےکاوسیلہ سمجھتی ہے۔اوراس سےاسی مقصدکےلئےاستفادہ کرتی ہے۔صیہونی حکومت کےحامی اورطرفدار سازبازکےعمل کوصیہونی حکومت کی شبیہ بہترظاہرکرنےکےلئےایک ہتھیکنڈےکےطورپرپیش کرتےہيں۔سازبازکا عمل صیہونی حکومت کےحامیوں کی منصوبہ بندی کےتحت فلسطینیوں پر اس حکومت کی غاصبانہ پالیسیوں کومسلط کرنےکی غرض سےاوربین الاقوامی سطح پراس کےغاصبانہ قبضوں کوقانونی حیثیت دینےکےلئے انجام پارہا ہےجس پرعالمی ردعمل سامنےآرہا ہے اورریچرڈفالک کےبیانات کااسی تناظرمیں جائزہ لیناچاہئے۔ریچرڈ فالک کےبیانات عالمی برادری کےلئےیہ پیغام ہیں کہ اب سازباز کےعمل اورچارفریقی کمیٹی کہ اقوام متحدہ بھی جس کاایک رکن ہے ،کےاقدامات میں اپنااس سےزيادہ وقت برباد نہ کریں ۔اورٹھوس تدابیراختیارکرتےہوئےفلسطینیوں کےمسائل ومشکلات کےخاتمےکےساتھ ہی فلسطینیوں کےحقوق کےحصول کےلئےعملی جامہ پہنائيں۔ایسےحالات میں جب بین الاقوامی شخصیتیں اورحکام مشرق وسطی میں سازباز کےعمل کےنیرنگ ہونےپرتاکیدکرتےہيں، فلسطینی انتظامیہ کےحکام کا ملت فلسطین کی دشمن صیہونی حکومت کےساتھ مذاکرات جاری رہنےکاملت فلسطین کےساتھ خیانت کےسوااورکیامطلب ہے۔....... /169
2 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 326596
فلسطین کےانسانی حقوق کےامورمیں اقوام متحدہ کےکمشنرریچرڈفالک نےعالمی برادری پرشدیدتنقیدکرتےہوئےاس پر صہيونی رياست کی کالونیوں کی تعمیرکی پالیسی کاذمہ دارقراردیاہےاورامن کےعمل کو ایک دھوکہ قراردیاہے۔