ابنا:اخبار معاریف نے صہیونیوں کے اس اقدام کی وجہ، مقبوضہ فلسطین میں اقتصادی جمود اور افراط زر نیز بڑھتی ہوئی بے روزگاری بتائی ہے اور صہیونی ریاست کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل مزید شدّت اختیار کرسکتا ہے جس کی بناء پر اسرائیل سے نقل مکانی کی لہر بھی اٹھہ کھڑی ہوئی ہے جس نے صیہونی حکومت کو حواس باختہ کردیا ہے ۔
ان لوگوں نے اسرائیل میں عیش و آرام کا وعدہ ملنے پر ہی مقبوضہ فلسطین نقل مکانی کی تھی مگر اب انھیں مختلف قسم کی شدید مشکلات کا سامنا ہے اسلئے کہ ایک جانب یہ لوگ ہائی ایجوکیشن رکھنے کے باوجود چھوٹی چھوٹی ملازمتوں پر کام کررہے ہیں اور دوسری جانب ان کی رہائش کا بھی کوئی معقول بندوبست نہیں کیا گیا ہے جس کی بناء پر وہ کینٹینروں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں عوام کی جانب سے ریکارڈ توڑ احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں جیساکہ گذشتہ سال اسرائیل کی آبادی کے پیش نظر کیا جانے والا ملین مارچ قابل غور ہے جس کے بعد صہیونی ریاست کی کابینہ بھی زوال کے دہانے پر جاپہنچی اور صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو حزب کادیمہ کے ساتھہ اتحاد کرنے پر مجبور ہوگئے ۔
اس رو سے اس وقت اسرائیل میں ایکبار پھر احتجاجات کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے اور ایسی رپورٹیں موصول ہورہی ہیں کہ لوگ مقبوضہ فلسطین سے اپنے سرمائے باہر نکال رہے ہیں اور فضا میں اسرائیل کے زوال کی آوازیں گونج رہی ہیں اور غاصب صہیونی ریاست جو سالوں سے امریکی ڈالروں اور اس کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے سہارے جی رہی تھی اور علاقے میں جنگ و جدال میں سرگرم عمل تھی اب آخری سانسیں لے رہی ہے اور وہ صرف اندرونی بحران کی پردہ پوشی کی کوشش کے درپے ہے ۔........
/169