17 جون 2012 - 19:30

ایسے عالم میں جب مصرحساس حالات سےگذر رہا ہے اس ملک کی اعلی فوجی کونسل نے کچہ ایسےاقدامات کئےہيں جنھیں بغاوت سےتعبیرکیاجارہاہے۔

ابنا:‌ مصرکی اعلی فوجی کونسل نےایک بیان جاری کرکے پارلیمنٹ کی ذمہ داریاں اپنےہاتھ میں لینےکاراستہ ہموارکردیاہے ۔ مسلح افواج کی اعلی کونسل نے اتوارکےدن اعلان کیاہے کہ اس نے پارلمینٹ نہ ہونےکی صورت میں قانون بنانےاورمصرکےعام بجٹ کوکنٹرول کرنے کا کام اپنےہاتھ میں لےلیاہے ۔مسلح افواج کی اعلی کونسل کےبیان میں کہاگیاہےکہ پارلیمنٹ نہ ہونےکی صورت میں اس کےاختیارات مسلح افواج کی اعلی کونسل کےہاتھ میں ہیں۔آئین کےبارےمیں ریفرینڈم کےبعد ہی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے ۔مصرکانیاآئین تمام سیاسی پارٹیوں سےتشکیل شدہ کمیشن مرتب کرےگا ۔ اس کمیشن کےپاس آئین تیارکرنےکےلئےتین مہینےکاوقت ہے ۔ اگرمذکورہ کمیشن اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دےگا تو مسلح افواج کی اعلی کونسل یہ حق اپنےلئےمحفوظ رکھتی ہے کہ نیاکمیشن تشکیل دے۔ حتی مصرکی فوجی کونسل آئین کےتتمہ کےتناظرميں اپنایہ حق سمجھتی ہےکہ قانون کی جوشق بھی ملک کےمفادات سےتضاد رکھتی ہواسےویٹوکردے۔مصرکےآئین کےتتمہ ميں جس چیزکاذکرکیاگیاہےاس ميں مصر کی فوجی کونسل کرزيادہ اختیارات ديئےگئےہيں اورچونکہ پارلیمانی انتخابات کےانعقاد تک پارلیمنٹ کےتمام فرائض فوجی کونسل انجام دےگی اس لئے اس امرکامطلب یہ ہے کہ مذکورہ کونسل کوتمام امورپربرتری حاصل ہوگی اورفوجی کونسل کو ہی مصرمیں تمام فیصلوں کااختیارہوگا۔ اس سےقبل مسلح افواج کی کونسل نے اعلان کیاتھاکہ وہ جون میں تمام اختیارات منتخب حکومت کےسپرد کردےگی لیکن فوجی کونسل کی جانب سے پارلیمنٹ کےخلاف کی جانےوالی بغاوت اور اسےتحلیل کرکے اس کےاختیارات اپنےہاتھ میں لےلینے سے یہ بخوبی نمایاں ہوجاتاہے کہ مصری فوج اقتدارسےالگ ہونےکاارادہ نہيں رکھتی۔مصری فوج گذشتہ چندعشروں بالخصوص جمال عبدالناصر کےدورصدارت سے ہمیشہ ہی اس ملک کےنظام کاایک رکن رہی ہے۔ اس امر کےپیش نظر ایسا نظرآتاہےکہ مسلح افواج کی کونسل آسانی سےمصرکےفوجی نظام سےعلحدہ ہونےوالی نہيں ہےحتی حاشئےپرڈالےجانےکےخوف سے مصری فوج،صدارتی انتخابات میں بھی احمد شفیق کےحق میں میدان میں اترآئی۔بہرحال جوچیزمصرکےسیاسی اورسماجی میدان میں نظرآرہی ہے وہ یہ ہےکہ فوجی بالخصوص اعلی فوجی کونسل کےاراکین جنھیں معزول ڈکٹیٹرمبارک نےمنصوب کیاہےیہ کوشش کررہےہیں کہ اس ملک میں اقتدارمیں حصےدار رہیں بہت سےسیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ مصرکی پارلیمنٹ کوتحلیل کرنےکا مسلح افواج کی اعلی کونسل کاحالیہ اقدام اورآئین کےتتمہ کاجاری کیاجانا مزید چند دنوں تک اقتدارمیں سابق حکومت کےباقیات کےبرقرار رہنےکی کوشش ہے ۔مصری فوجی کونسل کےاراکین یہ بخوبی جانتےہيں کہ اگرمصرکاسیاسی عمل اپنےفطری راستےپرچل نکلا تو اس ملک کےسیاسی ادارے عوامی مطالبات کی بنیاد پر یکےبعد دیگرے تشکیل پاناشروع ہوجائيں گے اور پھر فوجیوں کےلئے سیاسی نظام میں سرگرمیاں انجام دینے کی گنجائش باقی نہيں رہےگی دوسرےلفظوں میں وہ اس ملک میں طاقت کی علامت نہيں رہیں گے۔ لہذا مصرميں سابق آمرحکومت سےوابستہ افراد اوراعلی فوجی کونسل اس ملک میں عدم استحکام پیداکرنےاور انقلاب مصرکواس کےاصلی راستےسےمنحرف کرنے اوردرحقیقت اس پرقبضہ کرنےکی بھرپور کوشش کررہی ہے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ جب بہت سےسیاسی گروہ اور قومی وانقلابی شخصیتیں انقلاب مصراوراس کےثمرات کےخلاف فوجی کونسل کےمذموم مقاصد سےخبردارکرتےہوئےمصری عوام کےہرطبقےسےاپیل کی ہےکہ وہ انھیں ایسانہ کرنےدیں تاکہ ملک سابق نظام حکومت کی جانب واپس نہ پلٹنےپائے۔....../169