ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے آج بیجنگ میں شانگھائي تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان،پاکستان اور عراق کی جنگيں موجودہ عالمی نظام کی پیچیدہ منصوبہ بندی اور شکست کی علامتیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اھداف تک پہنچنے کے لئے موجودہ عالمی نظام کو مسترد کرکے عدل و انصاف، دوستی اور تمام قوموں کے حقوق کے احترام پرمبنی نیا نظام بنانا ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یہ تجویزیں پیش کرتا ہے کہ علاقائي اور عالمی سطح پر قوموں کے درمیاں اتحاد ودوستی کو استحکام پہنچایا جائے، اقتصادی تعلقات میں توسیع لائي جائے، تسلط پسندطاقتوں کی دسترس سے خارج نیا مالیاتی نظام بنایا جائے، اور قوموں کی دوستی بڑھانے کے لئے ثقافتی سطح پر تعاون کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام ممکنہ شعبوں میں ماضی کی طرح اعلی ترین سطح پر بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہے اور شانگھائی تعاون تنظیم کے تمام انسان دوستانہ اھداف کے حصول کی حمایت کرتا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ آج تمام قوموں کی بڑی بڑی مشکلات اور موجودہ بحرانی صورتحال کا سبب جو کہ ناقابل علاج ہے موجودہ عالمی نظام کا ناکارہ ہونا اور اس میں امتیازی رویے اور بدعنوانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحران شمالی امریکہ سے لیکر یورپ اور ایشیا نیز افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور سب کو اس سے نقصان ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ شانگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس آج صبح چین کے صدر ہوجین تائو کے خطاب سے شروع ہوا۔ اس تنظیم میں چین، روس، قزاقستان، ازبکستان، قرقیزستان اور تاجکستان شامل ہیں جبکہ ایران، پاکستان، ہندوستان، منگولیہ مبصر کی حیثیت سے شرکت کررہے ہیں۔ شانگھائی تعاون تنظیم دوہزار ایک میں تشکیل پائي تھی۔ .......
/169