29 مئی 2012 - 19:30

بحرین کے جمہوریت پسند عوام کا دباؤ رنگ لایا اور آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا۔/ نبیل رجب: مجھ پر لگائے گئے الزامات مکارانہ ہیں؛ آل خلیفہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھوں گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے انقلابی اور جمہوریت پسند عوام کے دباؤ کے تحت انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

نبیل رجب کے وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ خلیفی عدالت نے ڈاکٹر نبیل رجب کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا اور وہ رہا ہوگئے۔

قبل ازیں اعلان ہوا تھا کہ آج خلیفی عدالت نبیل رجب اور جمعیۃ العمل الاسلامی کے قائدین پر مقدمے کی سماعت کرے گي۔

نبیل رجب 5 مئی 2012 کو بیروت سے ملک واپسی کے وقت منامہ ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ رجب کے وکیل نے کہا کہ انھوں نے اپنے آپ پر لگائے گئے الزامات عدالت میں مسترد کردیئے ہیں چنانچہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا اور انہیں رہائی مل گئی۔

نبیل رجب کو وکیل محمد الحبشی نے کہا: خلیفی عدالت نے نبیل رجب پر غیرقانونی اجتماع منعقد کرنے کا الزام لگایا لیکن انھوں نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیا چنانچہ خلیفی جج کے پاس انہیں قید میں رکھنے کے لئے کوئی جواز باقی نہيں رہا اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن انہيں عدالتی کاروائی مکمل ہونے تک بیرون ملک سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔

خلیفی اٹارنی جنرل نے الزام لگایا تھا کہ نبیل رجب سماجی ویب سائٹوں کے ذریعے آل خلیفہ خاندان کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان ہی ویب سائٹوں کے ذریعے عوام کو احتجاجی دھرنوں اور ریلیوں کے لئے بلاتے رہے ہیں۔ 

5 مئی کو ان کی گرفتاری کے بعد بحرینی عوام نے ان کی رہائی کے لئے وسیع مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی ان کی گرفتاری پر سخت رد عمل ظاہر کیا۔

ڈاکٹر نبیل رجب نے گذشتہ بدھ کے دن بھی خلیفی عدالت میں کہا تھا کہ خلیفی عدالت کی طرف سے ان پر لگائے گئے الزامات مکارانہ ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

عدالت میں موجود بعض عینی شاہدین نے کہا کہ نبیل رجب نے عدالت میں کہا کہ انھوں نے بیان کی آزادی کے حوالے سے اپنے استحقاق کا استعمال کیا ہے اور ان سے کوئی جرم سرزد نہيں ہوا ہے اور چونکہ وہ انسانی حقوق کے سلسلے میں سرگرم عمل ہیں اسی لئے انسانی حقوق پامال کرنے والوں نے ان پر بے جا الزامات لگائے ہیں اور مکر و فریب سے کام لیا ہے۔

نبیل رجب خود بھی بلند پایہ وکیل ہیں اور ان کے دفاع کے لئے عدالت میں 54 وکلاء موجود تھے۔ بدھ کے روز سماعت کے دوران وکیل استغاثہ کے پاس کہنے کے لئے کوئی بات اور لگانے کے لئے کوئی الزام باقی نہ رہا تو کہنے لگآ: نبیل رجب نے سیکورٹی فورسز کی توہین کی ہے۔ ........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کی خبریںبحرین: انقلاب کرامت کی شمع نہیں بجھنے دیں گے