19 مئی 2012 - 19:30

ہزاروں علما، شعراءاور مفکرین نے اہلبیت (ع) کی مدح سرائی کی ہے لیکن اقبال کو ان مدح سراؤں میں مخصوص امتیاز حاصل ہے۔ جب جب اقبال اہلبیت (ع) کی بارگاہِ فیض بخش میں حاضرہوئے ہیں۔ اُن کا تخلیقی شعور اور عقیدت و احترام کا جذبہ عروج پر تھا۔ نتیجتاً مدحتِ اہلبیت (ع) کے حوالے سے اقبال کے یہاں مخصوص انداز ِ بیان، پاکیزہ فکر، اور افراط و تفریط سے مبرہ جذبۂ عشق پایا جاتا ہے۔ محمد و آلِ محمد (ص) کی توصیف و تعریف میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہے نہ تعلی و مبالغہ سے۔ بلکہ انہوں نے قرآنی معیارات اور تاریخی حقائق کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔ تعظیم و تکریم سے لبریز جذبات کے باوجود علامہ نے متوازن اصطلاحات اور شایانِ شان الفاظ کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

سجدہ ہا بر خاکِ او پا شیدمے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سیرتِ حضرتِ زہرا (س) کلام اقبال کی روشنی میں

اپنی دیدہ وری، ژرف نگاہی ، جمال پسندی اور جلا ل طلبی کی بدولت علامہ اقبال خس و خاشاک کے ڈھیر میں بھی گوہرِ مراد ڈھونڈ نکلانے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اسی ہنرکی بدولت انہوں نے اُن تاریخی کرداروں میں بھی مثبت اور قابلِ تقلید پہلؤوں کا انکشاف اپنی شاعری میں جابجا کیاہے۔ جو عموماً منفی پہلؤوں سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اقبال شر کے ماخذ و منبع یعنی ابلیس کے کردار میں بھی چند ایک ایسے گوشوں کے متلاشی ہیں جن میں شیطان کے ازلی دشمن یعنی اشرف المخلوقات انسان کے لئے چند ایک سبق آموز امور پائے جاتے ہوں۔ اخلاقاً اور اصولاً اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ انسان، ابلیس جیسے اپنے بڑے دشمن کے کردار کو بھی جانچے پرکھے اور اگر اُسے زیر کرنے کیلئے کوئی کام کی چیز مل جائے تو لینے میں تامل نہ کرے۔ فرہاد اور مجنون جیسے افسانوی کرداروں کو بھی اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے مخصوص زاویۂ نگاہ سے دیکھا۔ اورحقیقی زندگی کیلئے سبق آموز اور مطلوبہ جذبے ان سے اخذ کئے۔ حصولِ مقصد کی راہ میں حائل ”سنگِ راہ“ کو ہٹانے کیلئے جذبہ مجنون اور تیشہ کو ہکن اقبال کی نظر میں اب بھی کارگر ہیں۔ الغرض جو اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) منفی اور افسانوی کرداروں سے بھی مثبت فکر اور جذبہ حقیقی کشید کرنا جانتے ہیں۔ وہ تاریخ ِبشریت کی روشن اورمثالی شخصیات سے کیونکر چشم پوشی کرسکتے ہیں باالفاظِ دیگر زہر میں بھی تریاق کے عناصر کو حاصل کرنے والے حکیم الامت کیلئے یہ و ظیفہ نہایت ہی آسان ہے کہ وہ آبِ حیات کے منابع سے اپنی شاعری کے جام و سبو بھر دے اور موت کی نیند سونے والی انسانیت کو بلاکر پھر سے زندگی کا جوش و جذبہ بیدار کرے۔ اس سلسلے میں خوب سے خوب تر کی تلاش میں جب اقبال نکلے تو وہ ایک ایسے گھرانے کی دہلیز پر پہنچے۔ جس کے تمام مکین ہر لحاظ سے لامثال ہیں۔ اس گھرانے میں محمد الرسول اللہ جیسے باپ ہیں۔ علی (ع) جیسے شوہر اور حسنین (ع) جیسے فرزند ہیں۔ زینب (س) جیسی بیٹی اور فاطمة الزہرا (س) جیسی ماں ہیں۔ یہ پورا کا پورا گھرانا اقبال کی نظر میں مقدس و مطہر ہے۔ لہٰذا بار بار اس گھر کی چوکھٹ پر اپنی جبینِ نیاز جھکانے کو باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں علما، شعراءاور مفکرین نے اہلبیت (ع) کی مدح سرائی کی ہے لیکن اقبال کو ان مدح سراؤں میں مخصوص امتیاز حاصل ہے۔ جب جب اقبال اہلبیت (ع) کی بارگاہِ فیض بخش میں حاضرہوئے ہیں۔ اُن کا تخلیقی شعور اور عقیدت و احترام کا جذبہ عروج پر تھا۔ نتیجتاً مدحتِ اہلبیت (ع) کے حوالے سے اقبال کے یہاں مخصوص انداز ِ بیان، پاکیزہ فکر، اور افراط و تفریط سے مبرہ جذبۂ عشق پایا جاتا ہے۔ محمد و آلِ محمد (ص) کی توصیف و تعریف میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہے نہ تعلی و مبالغہ سے۔ بلکہ انہوں نے قرآنی معیارات اور تاریخی حقائق کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔ تعظیم و تکریم سے لبریز جذبات کے باوجود علامہ نے متوازن اصطلاحات اور شایانِ شان الفاظ کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ ثبوت کے طور ان اشعار کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے جو ”رموز بے خودی“ میں علامہ اقبال نے جناب زہراء (س) کے شان میں کہے ہیں۔ رموز بے خودی میں علامہ اقبال نے خواتینِ ملت کے لیے ایک بڑا حصہ وقف کیا ہے۔ تین ابواب تو مطلقاً نسوانیت کے تعلق سے فکر انگیز مباحث پر مبنی ہیں۔ ان میں سے پہلا باب ”در معنی این که بقای نوع از امومت (1) است و حفظ و احترام امومت اسلام است“ دوسرا باب ”در معنی اینکه سیدة النساء فاطمة الزهراء اسوه کامله ایست برای نساء اسلام“ تیسرا باب ”خطاب به مخدراتِ اسلام“ عنوان سے قائم کیا گیا ہے۔ ان تینوں ابواب کے مرتبط مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پہلا اور تیسرا باب اُس دوسرے باب کی جانب راجع ہیں جس میں جناب فاطمہ (س) کی سیرت و کردار کے حوالے سے لطیف و عمیق نکتے بیان ہوئے ہیں۔ اس باب کے آغاز میں علامہ اقبال نے نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ جناب سیدہ (س) سے اپنی عقیدت کی وجہ بیان کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی فضیلتِ نسبی اور شرفِ نسبتی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس باب کے آسان تجزیہ و تحلیل کے لئے اس میں درج اشعار کو چند عنوانات کے تحت تقسیم کیا جاسکتا ہے۔فضیلتِ نسبی:ابتدائی اشعارمیں علامہ اقبال نے حضرت زہرا (علیھا السلام) کے شرف و کرامت کا یہ پہلو بیان کیا ہے کہ آپ دخترِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، مادرِ حسنین (ع) اور ہمسرخیبر کشا علی مرتضیٰ (ع) ہیں جناب فاطمہ علیھا سلام اس آخری رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی لختِ جگر اور نورچشم ہیں جو فخرِ موجودات اور رحمة للعالمین ہیں۔ جن کی ذات کی بدولت پورے عالم میں جان باقی ہے ؛مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیزنورِ چشم رحمة العالمین آں امامِ اولین و آخریںآنکہ جاں در پیکر گیتی دمید روزگارِ تازہ آئین آفریدجناب زہرا (س) کے حسب ونسب کی پاکیزگی اور عظمت کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی چہیتی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ یہ نسبت محض قریبی رشتے ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ جناب سیدہ (س) اپنے والدِ گرامی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و الہ و سلم) کے مشن میں ان کی بہترین معاون و مددگار ثابت ہوئیں۔ پدرانہ شفقت اپنی جگہ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی بیٹی کے تئیں جس عزت و تکریم اور انتہائی محبت و شفقت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اس کا بنیادی محرک حضرت فاطمہ (س) کی عظیم شخصیت اور اسلام کے تئیں ان کی لامثال فداکاریاں تھیں۔ جناب فاطمہ (س) نے کم سنی میں ہی اپنے عظیم المرتب باپ کی اولوالعزمانہ شخصیت کو درک کیا تھا۔ آپ (س) کارِ رسالت کی حساسیت اور سنگینی سے بخوبی واقف تھیں۔ فاطمہ (س) جانتی تھیں کہ اس کے پدر بزرگوار پروردگار عالم کی جانب سے مبعوث بہ رسالت ہیں۔ اس الہٰی مسئولیت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جو واحد راستہ آپ کے سامنے ہے۔ وہ کانٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمہ (س) نے اپنے بچپن کے تمام معصومانہ مشاغل کو تج دیا اور اوائل عمری سے ہی اپنے گفتار و کردار کے ذریعے اپنی جلالت و بزرگی کا مظہر بن گئیں۔ آپ (س) کا ہیولیٰ اور جسمانی پیکر طفلانہ خصائص سے مزّین تھا۔ لیکن آپ کی معنویت کا یہ عالم تھا۔ کہ طفلگی میں ہی رسول اللہ کے شانہ بشانہ تمام مصائب و آلام کا مقابلہ کیا۔ کفارِ قریش کی حشرسامانیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اپنے شفیق والد کے تئیں مخالفینِ اسلام کی ایذارسانیوں پر انتہائی صبر کیا۔ شعبِ ابی طالب کے تلخ ترین تین سال گرسنگی و تشنگی کے عالم میں گزارے۔ مگر حرفِ اف تک اپنی زبانِ مبارک جاری نہ کیا۔ اس کے برعکس، جب کبھی محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھکے ماندے گھر لوٹ آتے تو حضرت فاطمہ (س) اپنے ننھے منھے ہاتھوں سے وہی کام انجام دیتیں جو کام مادرِ رسول (ص) جناب آمنہ (س) کے ہاتھوں انجام پاتا اگر وہ ان ایام میں بقیدِ حیات ہوتیں۔ بارہا پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) گرد آلود اور مجروح حالت میں جب گھر تشریف لے آتے تو ان کی یہ کم سن بیٹی زخموں پر مرہم لگاتی گردو غبار اور اس غلاظت کو صاف کرتی جو دشمنانِ پیغمبر ان پر وقتاً فوقتاً ڈال دیتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نہایت ہی کم سن بیٹی اپنے پدرِ بزرگوار کو معصومانہ لہجے میں کچھ یوں دلاسہ دیتی کہ جیسے فاطمہ (س) کے روپ میں آمنہ (س) متکلم ہو۔ بالفاظِ دیگر کارِ آمنہ بدست فاطمہ (س) انجام پایا تو رسولِ خدا نے اپنی لختِ جگر فاطمہ کو ”ام ابیھا“ یعنی ”اپنے باپ کی ماں“ کے خطاب سے نوازا۔ اس کے علاوہ رسولِ رحمت کے پیش نظر وہ تمام قربانیاں بھی تھیں جو اسلام کی حفاظت کے لیے مستقبل ِقریب میں حضرت زہراء (س) بالواسطہ یا بلاواسطہ دینے والی تھی۔ درج ذیل شعر کو اسلام کی ابتدائی تاریخ کے پسِ منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے توباپ بیٹی کے مقدس رشتہ کے پشت پر ایک معنوی تمسک کا بھی کسی حد تک ادراک ہوسکتا ہے۔ نورِ چشمِ رحمتاً اللعالمین آں امامِ اولین و آخریننسبت دوم: شیرِ خدا کی شریک حیات:بانوئے آں تاجدارِ ھَل اتیٰ مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خداپادشاہ وکلبہ ایوانِ او یک حسام و یک زرہ سامانِ اوشاہ ولایت (ع) اور خاتون جنت (س) کی ازدواجی زندگی ہر جہت سے رسولِ کریم کے اس قول کی عملی تائید ہے کہ ”اگر علی (ع) نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی کفو نہ ہوتا“۔ جس شان اور عنوان سے حضرت فاطمہ (س) نے بحیثیتِ دخترِ رسول فقید المثال کردار پیش کیا اُسی شان سے انہوں نے اپنے شوہر حضرت علی (ع) کے ساتھ ایک مثالی زوجہ کا رول نبھایا۔ فکری ہم آہنگی، عملی یگانیت اور عادات و اطوار میں اس قدر یکسانیت تھی۔ کہ ظاہری شکل و شمائل اور صنفی اعتبار سے اگر ہر دو عظیم المرتبت شخصیات میں امتیاز نہ ہوتا تو علی (ع) فاطمہ کہلاتے اور فاطمہ (س) پر علی (ع) کا گمان ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوتی۔ ان کی سوچ اور اپروچ ایک، ان کا محبوب و معشوق مشترکہ یہاں تک مقصدِ حیات و ممات بھی یکساں تھا۔ صرف اور صرف رضائے الہٰی کی خاطر زندگی گزاری اور شہادت پیش کی۔ اسی گوہرِ بے بہا کی حصولیابی کے لئے ایک نے درونِ خانہ جہاد زندگانی کے ہر محاذ پر اپنی صلابت و صلاحیت، عصمت و طہارت اور حسنِ تربیت کے جھنڈے گاڑھ دیئے، تو دوسرا بیرون خانہ کبھی میدان کارزار تو کبھی کشت زار میں خون پسینہ ایک کرنے میں مصروفِ عمل رہا۔ حیدرکرار دشمنان پیمبر کے خون سے لت پت تلوار گھر لاتے تو جناب زہراء (س) اس خون آلود ذوالفقار کو دھو کر پھر سے اس کی چمک دمک لوٹاتیں۔ حضرت امیر (ع) نے رسولِ دو جہاں کی اس لختِ جگر کی ہر خواہش کو استحسان کی نظر سے دیکھا تو جناب فاطمہ (س) کے مطلق علامہ اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) کا یہ شعر سیرتِ فاطمہ (س) کا آینہ دار ہے۔ نوری وہم آتشی فرمانبرشگم رضائش در رضائے شوہرش عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا سیدہ کونین (س) شب و روز اس قدر عبادتِ الہٰی میں مشغول رہتیں کہ کہ والدِ گرامی کی مانند پایہ مبارک متوّرم ہوجاتے۔ دوسری جانب حضرت علی (ع) کے قیامِ لیل کا تذکرہ بھی بیشتر مورخوں نے کیا ہے۔ حتیٰ کہ پیر سے پیوستہ تیر دورانِ نماز نکالا گیا اور امیرالمومنین (ع) کو پتہ ہی نہ چلا۔ معصومہ عالم (س) کی زندگی کا ایک حصہ فقرِ مصطفوی کی آغوش میں گذرا اور دوسرا حصہّ فقرِ حیدری کے سائے میں کچھ اس طرح سے بسرہوا۔ کہ فقر بوترابی کے کامل تر تصّور میں حضرت زہرا (س) کی رضاعت و قناعت بھی شامل ہوگئی۔ حضرت علی (ع) اور حسنین (ع) سمیت صبرو رضاء کی یہ عظیم پیکر اکثر فاقوں پر ہی گزر بسر کرتی ت