ابنا: اسرائيل ميں صہیوني ریاست کے خلاف مظاہروں کا تسلسل اس بات کي علامت ہے کہ اسرائيل کے داخلي حلقوں ميں بنيامين نيتن ياہو کي کابينہ سے معاشي و سماجي مشکلات کے حل کي کوئي توقع باقي نہيں رہ گئي ہےـ
مقبوضہ فلسطين يعني اسرائيل ميں رہنے والوں نے سرسام آور مہنگائي کے خلاف مظاہرے کئےـمظاہرين اپنےہاتھوں ميں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ہم سماجي انصاف چاہتے ہيں جيسے نعرے درج تھے اور وہ حکومت کي معاشي پاليسيوں کي مذمت کر رہے تھےـمظاہرين نے نيتن ياہو کي برطرفي کا مطالبہ بھي کياـ مقبوضہ فلسطين ميں گزشتہ سال ستمبر کے مہينے سے ہي مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے جب تقريبا دس لاکھ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اقتصادي بدحالي کے خلاف نعرے لگائے تھےـ
معيشت کي ابتر صورت حال کے خلاف مظاہروں ميں آنے والي شدت ايسے عالم ميں ديکھنے ميں آ رہي ہے کہ جب صہیوني ریاست کے بڑے بڑے گھوٹالوں اور مالي بدعنوانيوں کي خبريں تواتر سے آ رہي ہيں ـ تازہ ترين خبر کے مطابق صہیوني وزير خارجہ اويگڈر ليبرمين کے ايک بہت بڑے مالي غبن کے معاملے ميں فيصلہ آ گيا ہےـ اس سے قبل موشے کٹساؤ اور ايہود اولمرٹ جيسے سابق صدر اور وزير اعظم کے خلاف بھي مالياتي اور اخلاقي بدعنوانيوں کے مقدمے چل چکے ہيں ـ
ليبرمين کو سزا ہو جانے کي صورت ميں نيتن ياہو کي کابينہ کو شديد دھچکا پہنچے گاجنہوں نے چند روز قبل کاديما پارٹي کے تعاون سے نئي کابينہ تشکيل دي ہے جس ميں حريف پارٹيوں کے رہنما بھي شامل ہيں ـ
يہي وجہ ہے کہ اسے متصادم طاتقوں کا اتحاد قرار ديا جا رہا ہےـ نيتن ياہو نے مشترکہ کابينہ تشکيل ديکر درحقيقت قبل از وقت انتخابات کے امکانات کو ختم کر ديا ہے ليکن اس کابينہ کي تشکيل سے صہیوني ریاست کے داخلي اختلافات ميں کمي آنے کے بجائے ان ميں شدت آئے گي اور صہیوني ریاست کا نيا سياسي منظر نامہ گہرے اختلافات سے بھرا ہوا ہوگاـ
..............
/169