ابنا: لاس انجلیس میں نسلی تشّدد کی بیسویں برسی کی مناسبت سے کل سینکڑوں افراد نے اس شہر کی سڑکوں پر اجتماع اور امریکہ میں سماجی انصاف کی برقراری اور رنگین فاموں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔ شہر لاس انجلیس میں نسلی تشّدد بیس سال قبل سفید فام پولیس کے ہاتھوں راڈنی کنگ نامی ایک سیاہ فام پر حملے اور اس کے قتل کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا ۔
بنائی جانے والی فلمی تصاویر سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سفید فام پولیس نے بلا سبب راڈنی کنگ نامی ایک سیاہ فام پر تشدّد کیا اور اس واقعے پر شہری انتظامیہ کے عہدیداروں کی خاموشی و لاتعلقی سے سیاہ فام شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس طرح امریکہ میں حالیہ عشروں کا سب سے بڑا نسلی بحران اٹھہ کھڑا ہوا جس میں چار روز تک شہر لاس انجلیس میں قتل و تشّدد کا بازار گرم رہا اور 53 افراد مارے گئے نیز ایک ارب سے زائد ڈالر کا مالی نقصان ہوا ۔
اگر چہ پولیس کی مداخلت سے سیاہ فاموں کا احتجاج دبا دیا گیا اور احتجاجی مظاہرین کو سرکوب کردیا گیا تاہم امریکہ میں نسلی امتیاز اور امتیازی سلوک کا مسئلہ جوں کا توں جاری رہا ۔ اور اس وقت شہر لاس انجلیس میں نسلی تشّدد کے بیس سال بیت جانے کے بعد امریکی معاشرہ نئے نسلی فسادات سے دوچار ہے جو ایک سفید فام چوکیدار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام جوان کے قتل سے شروع ہوئے ہیں ۔ تقریبا دو ماہ قبل ایک سترہ سالہ سیاہ فام جوان سفید فاموں کی آبادی والے علاقے سے گذرتے ہوئےایک سفید فام چوکیدار کی جانب سے بلاسبب حملے کا نشانہ بنا اور جاںبحق ہوگیا اور قاتل کا پتہ لگانے اور اس کے خلاف قانونی کاروائی کرنے میں پولیس کی سستی و لاپرواہی سے امریکہ میں شہری حقوق کے مدافع کارکن مشتعل ہوگئے ۔
البتہ اس واقعے پر احتجاج میں بیس سال قبل کی مانند شدّت کا مشاہدہ نہیں کیا گیا تاہم احتجاج کا یہ سلسلہ کبھی بھی زور پکڑ کر تشّدد کی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ امریکہ میں اس قسم کے واقعات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکی معاشرہ اب بھی سماجی ناانصافی اور روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک سے دوچار ہے حالانکہ اس وقت امریکہ کے صدر ایک سیاہ فام ہیں اور گذشتہ چند عشروں کے مقابلے میں سیاہ فاموں کی صورت حال میں کچھہ بہتری بھی آئی ہے مگر پھر بھی لاکھوں رنگین فاموں کی زندگی میں اقتصادی ۔ سماجی ۔ اور ثقافتی اعتبار سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔
آمدنی ۔ تعلیم خاصطور سے اعلی تعلیم ۔ ملازمت ۔ اور حفظان صحت کے فقدان جیسے ایسے بہت سے مسائل ہیں کہ جن سے سیاہ فام شہری دوچار ہیں اور ایسے ماحول میں سفید فام پولیس رنگین فام شہریوں کو شک کی نظر سے بھی دیکھتی ہے اور نسلی پہلوؤں کے حامل مقدمات میں صحیح قضاوت سے بھی چشم پوشی کی جاتی ہے ۔ مجموعی طور پر یہ سب موضوعات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ اکّیسویں صدی میں بھی امریکی شہروں میں بے انصافی اور نسل پرستی کے خلاف پر زور مظاہرے کئے جاتے رہیں. ......./169