28 اپریل 2012 - 19:30

تہران يونيورسٹي ميں اتوار کوايران اور دنيا کے مختلف ملکوں کے ماہرين اور محقيقين کي شرکت سے تيسري دو روزہ بين الاقوامي خليج فارس کانفرنس شروع ہوئي -

ابنا:  تہران يونيورسٹي ميں اتوار سے شروع ہونے والي دو روزہ بين الاقوامي کانفرنس کے ايجنڈے ميں، " خليج فارس اور بحر ہند ميں تجارتي لين دين، خليج فارس کے جزائر ميں اقوام کي مہاجرت، خليج فارس ميں بڑي طاقتوں کي موجودگي، خليج فارس کے آثار قديمہ، علاقے کے ملکوں کے تجارتي اور ثقافتي روابط ميں خليج فارس کي اہميت، خليج فارس کي تاريخ، تمدن اور ثقافت، اور خليج فارس کي مقامي زبانيں اور بولياں ، شامل ہيں -

    تيسري بين الاقوامي خليج فارس کانفرنس کے سيکريٹري حسن زنديہ نے بتاياہے کہ خليج فارس ايک اہم بين الاقوامي موضوع ہے اس کانفرنس ميں خليج فارس کے  ماحول حيات کا جائزہ لينے کے علاوہ  اس خطے کي ملکيت کے تعلق سے  ايران کے معنوي حقوق پرجو جغرافيائي نقشوں ميں واضح ہيں تاکيد کي جائے گي-

  بين الاقوامي خيلج فارس کانفرنس تہران يونيورسٹي ميں ہر دوسرے سال منعقد ہوتي ہے اور اس سال اس کانفرنس ميں ايران کے علاوہ ، امريکا، چين، فرانس، برطانيہ اور خليج فارس کے ساحلي ملکوں کے محقيقين اور ماہرين شرکت کررہے ہيں -

  خليج فارس کي اصطلاح مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں ميں موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ يہ  اصطلاح  تاريخي  ہے اور دنيا کے مختلف ملکوں نے ہميشہ اس کو سرکاري طور پر تسليم کيا ہے -

انتيس اپريل جنوبي ايران کے سمندري علاقوں سے پرتگاليوں کے نکالے جانے کا دن ہے اور اسي مناسبت سے اس کو خليج فارس کا قومي دن قرار ديا گيا ہے - خليج فارس ، جيوپوليٹيکل،  تجارتي، ماہيگيري،  جہاز راني اور تيل اور گيس کے ذخائر کے   نقطہ نگاہ سے ہميشہ دنيا کا اہم ترين علاقہ شمار کيا گيا ہے اور آج دنيا کي اقتصادي شاہرگ اسي علاقے ميں پائي جاتي ہے -

انتيس اپريل سولہ سو باسٹھ عيسوي کو امير الامراي فارس، امام قلي خان کي دليري و  شجاعت کے نتيجے ميں   خليج فارس کے جزائر سے  پرتگاليوں کا ايک سو سترہ سالہ تسلط ختم ہوا........

/169