ابنا: گزشتہ روز جرمنی کے ستر سے زائد شہروں میں افغانستان میں نیٹو کی جنگ اور وسیع پیمانے پر دنیا میں ایٹمی ہتھیار پھیلانے کے خلاف مظاہرے ہو ئے۔
اسی طرح برلن میں بھی ہزاروں افراد نے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کرکے افغانستان اور مشرق وسطی میں امریکہ کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے اور جرمنی میں موجود بے شمار امریکی فوجی اڈوں کے سامنے بھی مظاہرے ہوئے ۔مظاہرین نے ملک کے جنوب مغربی شہر بوشل میں جرمنی فضائی اڈے کے سامنے جمع ہوکر امریکہ کے تقریبا بیس ایٹمی وار ہیڈ کی موجودگی پر سخت تنقید کی۔
جرمنی نے افغانستان کے شمال میں ایساف (I s a f) فوجی ادارے کی تشکیل دی جس میں پانچ ہزار سے زائد فوجی ہیں جو اس ملک کے نو شہروں میں موجود ہیں۔
ایساف ادارہ جو، نیٹو فوج کے زیر کنٹرول ہے اس کی بنیاد دوہزار ایک میں رکھی گئی ہے یہ افغانستان اور عالمی برادری کی مشترکہ پہلی کانفرنس کی مسلسل درخواست اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تائید سے دو ہزار ایک میں وجود میں آیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق افغانستان میں نیٹو کی مخاصمانہ کاروائیوں نے جرمنی کے انسانی حقوق کے حامیوں کے غیظ و غضب کو برانگیختہ کردیا ہے حالانکہ افغانستان میں نیٹو کی فوج میں اکثر جرمنی فوجی موجود ہیں۔
مخالفین کے نظریہ کے مطابق افغانستان میں جرمنی فوجیوں کی موجودگی اور افغانستان کے خلاف جنگ میں جرمنی حکومت کی امریکہ کی ہمراہی سے،نہ صرف یہ کہ جرمنی حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ جرمنی کے داخلی ، بیرونی اورعالمی منافع کے خلاف شدید سیکورٹی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جرمنی کی معمولی سی پالیسی اس بات کا سبب بنی ہے کہ ایسے حالات میں جب کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے میں اب بھی شک وتردید میں مبتلا ہے اس ملک کے حکام مستقل طور پر صحیح ارادہ کرنے یہاں تک کہ اپنے قومی مفاد پر اظہار نظر کرنے کی بھی قدرت وصلاحیت نہیں رکھتے۔
البتہ حال ہی میں جرمنی کی پارلیمنٹ نے افغانستان سے دو ہزار چودہ تک اپنے فوجیوں کے نکلنےکی تجویز پر تاکید کی ہے۔
اس کے باوجود جرمنی کی عوام نے افغانستان سے نیٹوں کی فوج کے فوری انخلاء اور غیر انسانی کاروائیوں کے روکنے پر تاکید کی ہے۔
کلی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ افغانستان میں نیٹو کے فوجی نہ صرف یہ کہ عالمی برادری اور افغانستان کی عوام کے سامنے اپنے مثبت غاصبانہ اقدام کی توجیہ کرنے سے عاجز ہوگئے ہیں بلکہ نیٹو کے رکن ممالک کی عوام نے بھی افغانستان میں نیٹو کی مخاصمانہ کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
....... /169