2 اپریل 2012 - 19:30

دفاع وطن کے نام پر پاکستان کے مختلف مقامات پر بعض مذھبی جماعتوں کی افرادی قوت کے مظاہروں کو، ایجنسیوں کی حمایت اور پشپناہی کا نتیجہ قرار دیا جاتا رہا اور حتی بعض اوقات پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نام بھی دفاع وطن کے نام پر ہونے والے جلسوں کے تعلق سے لیا جاتا رہا ہے۔

ابنا: جو لوگ دفاع وطن سے موسو م ریلیوں کو ایجنسیوں سے منصوب کرتے ہیں ان کے پاس اپنے اس دعوے کی کوئی خاص دلیل نہیں ما سوائے اس کے جولوگ بھی دفاع وطن سے موسوم ریلیوں میں اسٹیج پر نظر آتے ہیں وہی لوگ ہیں جو سن 80 کے عشرے میں مختلف جماعتیں اور لشکر بناکر سامنے آئے اور اس وقت کے فوجی حکمراں جنرل ضیاالحق کی جانب سے انہیں خوب نوازا گیا۔

ان لوگوں کے اس وقت کے افغان جہادی گروپوں خصوصا حکمتیار کے گروپ سے خصوصی مراسم تھے اور بعد میں طالبان لیڈر شپ کے ساتھ ان کے تعلقات کو عروج ملا۔ سواد اعظم، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور اسی طرح کے مختلف ناموں اور عنوانات کے تحت مقامی سطح پر ایسے مسلح گروپس وجود میں لائے گئے کہ جنہیں مخالفین کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اس وقت کی فوجی آمریت نے استعمال کیا، اور تھوڑے وقفے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف ان لوگوں کو پریشر گروپ کے طور پر سامنے لایا جاتا رہا، حتی اس مقصد کے لئے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور مجاہدین کو بھی استعمال کیا گیا۔ پاراچنار اور بلتستان کی اکثریتی شیعہ آبادیوں پر ہزاروں کی تعداد میں مسلح افراد کے ذریعے چڑھائی کی گئی۔ اقتدار کو طول دینے کے لئے برطانوی سامراج کی روش، لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنا کر پورے ملک میں کلاشنکف کلچر کو عام کردیا گیا۔ ہر پارٹی اور جماعت کو مسلح ونگ بنانے اور کھلے عام اسلحے کی نمائش کرنے کی اجازت ملنے کے بعد جو کچھ ہوا اس سے ہر شخص واقف ہے۔ لوٹ مار، مسلح ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد کے مرحلے میں بم دھماکوں خودکش حملوں کو متعارف کرایا گیا اور ایک ایک حملے میں سو سو ڈیڑھ ڈیڑھ سو افراد کو مساجد، امام بارگاہوں اور گلی کوچوں، سڑکوں اور بازاروں میں خاک و خون میں نہلایا جانے لگا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی ان کاروائیوں میں ملوث عناصر اور ان کے سرپرست نہ تو میڈیا کی تیز بین نگاہوں سے پوشیدہ ہیں نہ سیاستدانوں اور حکمرانوں سے لیکن اس کے باوجود ان پر قانون نافذ کرنے والوں اور آزاد عدلیہ کا دم بھرنے والوں کی گرفت ڈھیلی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کے ہاتھ کتنے بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین ہیں، لیکن اس کے باوجود اس دہشت گروہ کے افراد اور اس کی علی اعلان حمایت کرنے والے افراد، کھلے عام جلسے کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، ہڑتالوں کی کال دیتے ہیں، جلاؤ اور گھیراؤ کرتے ہیں۔ سنی تحریک پاکستان کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ماضی میں ملک میں دہشتگردی کرنیوالے آج 'دفاع وطن‘‘ کے ٹھیکیدار بن گئے ہیں ان کا کہنا تھا جن دہشتگردوں نے کئی ماؤں کی گودیں اجاڑیں، سینکڑوں بچوں کو یتیم کیا، وہ حکومت کی گڈ بک میں ہیں، بلکہ اتحادی بن کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔حکومت خود دہشتگردوں کو آکسیجن فراہم کر رہی ہے، وزیر داخلہ رحمان ملک گرفتار ہونے والے 35 سو دہشتگردوں کو قوم کے سامنے لائیں اور ان دہشتگردوں کا تعلق جن جماعتوں سے ہے ان پر پابندی عائد کی جائے۔

کراچی کی ابتر صورت حال کیطرف اشا رہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کراچی میں لاشوں اور پلاٹوں کی سیاست کرنے والے حکومت کی صفوں میں موجود ہیں، پولیس سیاسی دباؤ کا شکار ہے، اس لئے کراچی میں امن قائم کرنے میں ناکام ہے۔ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کیطرف متوجہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکوئٹہ میں نفرت کی آگ بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جلائی جا رہی ہے، امریکہ اصل میں چین کو ٹف ٹائم دینے کے لئے بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے اور اس کا ہدف ایران بھی ہے۔ اصل میں گوادر پورٹ چین کے لئے اور سرحد ملنے کی وجہ سے ایران کیلئے بلوچستان بہت اہمیت رکھتا ہے، چین کی معاشی ترقی امریکہ کو اچھی نہیں لگ رہی اور اس کا مروڑ ہندوستان اور عرب امارات کو بھی اٹھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ، ہندوستان، اسرائیل اور عرب امارات بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہے۔ دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کی ملک گیر جماعت سنی تحریک کے سر براہ ثروت اعجاز قادری اس جماعت کے لیڈر ہیں کہ جس کے رہنما اور کارکن بھی سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکےہیں۔پاکستان کے شہر گلگت میں حکومت اور مقامی شہریوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کی سیاہی اب خشک نہیں ہوپائی ہے کہ وہاں دہشت گردوں نے ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گلگت ميں کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کي ہڑتال کے نتیجے میں شہر میں دہشت گردی کا بازار گرم ہے، اور مختلف علاقوں ميں ہوائي فائرنگ اور دستي بم کے حملے ميں دسیوں افراد جاں بحق اور کم ازکم 50 زخمي ہو گئے جبکہ علاقے ميں کرفيو نافذ کر ديا گيا ہے۔ تاہم کرفيو کے نفاذ کے باوجود بعض مقامات سے فائرنگ کي آوازيں سنائي دے رہي ہيں۔ گلگت، پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم کے قریب واقع ہے۔ دریاۓ گلگت اس کے پاس سے گزرتا ہے۔گلگت کے مشرق میں کارگل شمال میں چین شمال مغرب میں افغانستان مغرب میں چترال اور جنوب مشرق میں بلتستان کا علا قہ ہے۔دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم اس کے قریب ہی ہے۔ یہاں کی زبان شینا ہے لیکن اردو عام سمجھی جاتی ہے۔ یہ علاقہ چین سے تجارت کا مرکز شمار ہوتا ہے۔ کے ٹو، نانگا پربت، راکاپوشی اور شمال کی دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے یہاں آتے ہیں۔ یہاں كى خاص چيز یہاں کا موسم ہے جو سال كے بارہ مہينے ٹھنڈاہوتا ہے۔گلگت کی اکثریتی آبادی شیعہ لوگوں پر مشتمل ہے۔جس میں زیادہ تر اثناء عشری شیعہ ہیں تاہم اسماعیلی اور سنی فرقے کی ایک بڑی تعداد بھی اس علاقے میں آباد ہے۔گلگت بلتستان میں ایک فرقہ نوربخشی ہے جو نور بخش کے پیرو کہلاتے ہیں۔ راولپنڈی سے گلگت جانے والی 840 کلومیٹر شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے میں 22 گھنٹے لگتے ہیں اور کئی مقامات سے سڑک کی خستہ حالت کی وجہ سے اس میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلی سید مہدی شاہ ہیں جن کا تعلق حکمراں جماعت پیپلز پارٹی سے ہے لیکن ظاہر کہ پارٹی کی پالیسی ان کے لئے مقدم ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے میں پارٹی کی پالسیی کئی مقامات پر حکومتی اہلکاروں کے بیان سے متصادم نظر آتی ہے۔ پپلزپاڑٹی سندھ کے سابق صوبائی وزیرذوالفقار مرزا کے انکشافات اور الزامات دہشت گردی کے تعلق سے حکومت کے بیانات اور اقدامات میں فاصلوں اور تضادت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں۔ دہشتگردی کے تعلق سے حکومتی اداروں کے اقدامات پر عوامی حلقوں خصوصا ملت جعفریہ میں پائی جانے والی مایوسی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہی جارہا ہے۔چنانچہ ملت جعفریہ پاکستان کے قائدین اور رہنماؤں کے بیانات اور انتباہات میں حالیہ دنوں میں خاصی سختی دیکھنے میں آئی ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم اب جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اگر حکمرانوں نے کوئی ایکشن نہ لیا تو ہم اس دہشت گردی کو قوت بازو پر روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس بارے میں سوچ بھی رہے ہیں، اور اگر ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا تو اس ملک کی فضاء کا رنگ کچھ اور ہی ہوگا، لیکن ہمیں ملک کا مفاد اورامن عزیز ہے۔علامہ موصوف کے اس بیان کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی قوم امن امان کے لحاظ سے کس حد تک مایوس اور عدم تحفظ کا شکا شکار ہے جبکہ امن امان کی صورتحال پر سنی تحریک کے قائد کا بیان بھی قابل غور ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ حالات جتنے بگڑ چکے ہیں ان سے بگڑنے نہ دیا جائےاور ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے والوں کو لگام دی جائے۔ ........

/169