ابنا: یوم الارض کی سالانہ تاریخ کی مناسبت سے مقبوضہ فلسطین کی سرحد سمیت پوری دنیا میں صہیونی ریاست کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ عرب اور اسلامی ملکوں کے عوام یوم الارض کی مناسبت سے صہیونی مخالف مظاہرے کرکے شہر بیت المقدس اور فلسطینی قوم کی حمایت کے مقصد سے خود کو مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
سات سو سے زائد مختلف اداروں اور تنظیموں نے ان مظاہروں میں شرکت کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے شہر بیت المقدس کو یہودی تشخّص دینے اور فلسطینیوں کی زمین و جائیداد پر قبضہ کرنے کیلئے صہیونی ریاست کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی علماء کمیٹی اور مسلمان علماء یونین نے عرب و مسلمان قوموں اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کو کل یوم الارض کے جلوس اور مظاہروں میں وسیع پیمانے پر شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔
مسلمان علماء یونین کے رکن ابو عاصم ابو راس نے کل یوم الارض کے جلوس اور مظاہروں میں عرب و مسلمان قوموں اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر احمد بحر نے بھی کل غزہ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست بیت المقدس کا نقشہ تبدیل کرنے کیلئے وہاں آباد لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر اور ان کے مکانات مسمار کررہی ہے اسلئے تمام عربوں اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ غاصب صہیونی ریاست کی ان سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی کسی کوشش سے دریغ نہ کریں۔ فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے مسجد الاقصی اور فلسطینیوں کے دیگر مقدس مقامات کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں عالمی اداروں کی خاموشی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل یوم الارض کے مظاہرے 80 اسلامی اور عرب و غیر عرب ملکوں میں کئے جارہے ہیں۔
فلسطین کی منتخبہ عوامی حکومت کے بیت المقدس اور فلسطینی قیدیوں کے امور کے وزیر عطاء اللہ ابوالسبح نے بھی مقبوضہ شہر بیت المقدس اور فلسطینیوں کے خلاف تیار کی جانے والی وسیع سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوم الارض کے موقع پر بیت المقدس کے عالمی جلوس اور مظاہروں میں وسیع پیمانے پر شرکت کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔
بیت المقدس کے بین الاقوامی ادارے نے بھی ایک بیان میں تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ کل 30/ مارچ یعنی یوم الارض بیت المقدس کی حمایت کا دن ہے اور صہیونی ریاست کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ وہ بیت المقدس۔ مقدس مقامات اور فلسطینیوں کے خلاف اگر اپنی جارحانہ کاروائیاں جاری رکھتی ہے تو مستقبل قریب میں اسلامی بیداری کی لہر بیت المقدس تک پہنچ جائیگی۔ الاقصی ادارے نے بھی عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق کے دارالکومت بغداد میں اپنے تشکیل پانے والے اجلاس میں بیت المقدس کے حامیوں کی امنگوں پر اپنی حمایت کا اعلان کرے۔
بیت المقدس کی حمایت کیلئے اطلاع دینے والی فلسطینی انجمن نے بھی ایک بیان میں یوم الارض کے مظاہروں کے بارے میں خبروں کے انعکاس کیلئے ذرائع ابلاغ کے سرگرم عمل کارکنوں کی شرکت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بیت المقدس سے متعلق خبروں کے انعکاس کی بناء پر اسلامی جمہوریہ ایران اور فلسطین کی تحریک مزاحمت کے حامی ذرائع ابلاغ کی قدر دانی کی۔ دریں اثنا غاصب صیہونی حکومت نے یوم الارض کے جلوس اور مظاہروں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے تمام فوجیوں کو چوکس کردیا ہے۔
الاقصی اوقاف و میراث کے ادارے نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ یوم الارض کے موقع پر درجنوں صیہونی فوجیوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا ہے اور وہ باب المغاربہ پر تعینات ہوگئے ہیں۔ یوم الارض ان فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا دن ہے جو 1976 سے فلسطینیوں کی زمین و جائیداد پر قبضہ کرنے سے متعلق صہیونی ریاست کی جاری جارحانہ پالیسیوں کے خلاف ہر سال احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں۔ 30/ مارچ 1976 میں غاصب صہیونی ریاست کے فوجیوں نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں ان فلسطینیوں کے پرامن مظاہرے کو جو صہیونیوں کی جانب سے اپنی زمین جائیداد قبضائے کے خلاف احتجاج کررہے تھے بے دردی سے کچلتے ہوئے 6 فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا۔..... /169