یہ حدیث متعدد حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے؛ ملاحظہ فرمائیں:
الف: خلیفۂ اول کے دور میں متعہ حلال تھا:
متعہ (ازدواج مُوَقَّتْ) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پورے دوران حیات حتی کہ خلیفہ اول کے پورے دوران خلافت میں مباح اور حلال تھا اور خلیفۂ ثانی نے اس سے نہی کردی۔
ب: نصّ کی موجودگی میں اجتہاد
خلیفہ ثانی نے اپنے آپ کو مجاز قرار دیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مسلمہ نصّ کے مقابلے میں "قانون" وضع کیا (اور پیغمبر اکرم (ص) کا قانون منسوخ کردیا) حالانکہ قرآن مجید کا فرمان ہے:
"وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا"۔ (18)
ترجمہ: اور جو رسول عطا کریں اسے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز آؤ۔
کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سوا کسی کو احکام الہی میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہے؟
کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ کیا ہے لیکن میں یہ نہیں کرتا اور وہ کرتا ہوں؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصّ کے مقابلے میں اجتہاد جائز ہے جبکہ نصِّ رسول (ص) اللہ تعالی سے مأخوذ ہے۔ (19)
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کو اتنے واضح اور آشکار انداز سے معطل اور منسوخ کرنا، واقعی حیرت انگیز ہے۔ (20)
مزیدبرآں اگر نص کے مقابلے میں اجتہاد کا دروازہ کھول دیا جائے تو کیا کوئی وجہ کوئی ضمانت ہے کہ دوسرے لوگ نصّ کے مقابلے میں اجتہاد کی روش نہ اپنائیں گے؟
کیا اجتہاد ایک فرد کے لئے مختص تھا اور دوسرے لوگ مجتہد نہیں ہیں؟
کہ بہت ہی اہم مسئلہ ہے کیونکہ نصّ کے مقابلے میں اجتہاد کا دروازہ کھلتے ہی کوئی بھی حکم خداوندی محفوظ نہیں رہ سکے گا؛ اسلام کے ابدی احکام میں عجیب و غریب افراتفری کا ساماں ہوگا اور حقیقتاً اسلام کے تمام احکام کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
ج: عمر کی مخالفت کا سبب
عمر نے ان دو احکام کی مخالفت کیوں کی؟
حج کے بارے میں ان کا تصور یہ تھا کہ جو مسلمان حج کے لئے آتے ہیں ان کو حج اور عمرہ مکمل کرلینا چاہئے اور تب جاکر احرام سے خارج ہونا چاہئے اور اس کے بعد ہی مثال کے طور پر اپنی بیویوں سے مجامعت کی طرف جانا چاہئے۔
ان کا تصور یہ تھا کہ یہ اچھا عمل نہیں ہے کہ لوگ عمرہ بجا لانے کے بعد احرام سے خارج ہوجائیں اور پھر حج کے لئے دوبارہ احرام باندھیں؛ ان کا خیال تھا کہ یہ عمل حج کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے!۔ (21)
حالانکہ یہ ایک نادرست خیال ہے کیونکہ حج اور عمرہ دو الگ الگ اعمال ہیں اور ممکن ہے کہ ان دو کے درمیان ایک مہینے کا فاصلہ ہو۔
مسلمان ماہ شوال المکرم یا ماہ ذوالقعدةالحرام میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں اور عمرہ بجا لاتے ہیں اور احرام سے نکل کر ذوالحجۃالحرام کی آٹھویں تاریخ تک آزاد ہوتے ہیں اور پھر حج کی بجاآوری کے لئے احرام باندھتے اور عرفات چلے جاتے ہیں۔ اس میں کون سی برائی ہے کہ انھوں نے اس کے مقابلے میں اتنی حساسیت دکھائی؟
متعۃالنساء کے بارے میں ـ بعض راویوں کے بزعم ـ عمر کا تصور یہ تھا کہ اگر ازدواج مُوَقَّتْ جائز رہے تو نکاح اور زنا کے درمیان تمیز مشکل ہوجائے گی اور عین ممکن ہے کہ کوئی بھی شخص کسی عورت کے ساتھ دکھائی دے اور دعوی کرے کہ اس نے اس عورت کے ساتھ ازدواج مُوَقَّتْ کررکھا ہے! اور یوں زنا کا دائرہ وسیع ہوجائے!۔
یہ گماں اول الذکر خیالسے بھی زيادہ سست اور بے بنیاد ہے کیونکہ اس خیال کے برعکس، عقد متعہ کی ممانعت زنا اور بے حیائی کا دائرہ وسیع ہونے کا باعث بنتی ہے کیونکہ مذکورہ بالا سطور میں بیان ہوچکا ہے کہ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو دائمی ازدواج پر قدرت نہیں رکھتے اور ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی بیویوں سے دور ہیں اور ازدواج مُوَقَّتْ اور زنا کے دوراہے پر کھڑے ہیں؛ امر مسلم ہے کہ صحیح منصوبہ بندی سے انجام پانے والے ازدواج مُوَقَّتْ کو ممنوع قرار دیئے جانے سے یہ لوگ زنا اور بےحیائی کے اندھے کنویں میں گرجائیں گے۔
اسی بنا پر ایک معروف حدیث میں علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ "لولا أنّ عُمَر نهى عنها عمر ما زنى إلاّ شقىّ" (22)
ترجمہ: اگر عمر نے متہ سے نہی نہ کی ہوتی تو کوئی بھی شخص ـ سوائے شقی، بدبخت اور بے راہروی کا شکار افراد کے ـ زنا سے آلودہ نہ ہوتا۔
د: متعہ کی تحریم کے زمانے کے بارے میں اختلافات کی انتہا:
عبداللہ بن عمر نے والد کی بات نہ مانی
مذکورہ بالا روایت ـ جو محدثین، مفسرین اور فقہاء کے ایک بڑے گروہ نے نقل کی ہے ـ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ متعہ کی تحریم عمر کی زمانے میں ہوئی نہ کہ عصر رسالت میں۔ اور ان ہی منابع میں منقولہ متعدد دیگر روایات بھی اسی امر کی تصدیق کرتی ہیں۔ بعنوان مثال:
محدث ترمذی نے روایت کی ہے کہ ایک شامی مرد نے عبداللہ بن عمر سے متعۃالنساء کے بارے میں سوال کیا تو عبداللہ نے کہا: حلال ہے
سائل نے کہا: آپ کے والد نے متعۃ النساء سے نہی کی ہے!
عبداللہ نے کہا:
"أرأيت إن كان أبي قد نهى عنها و قد سنّها رسول الله، أنترك السنّة و نتبع قول أبي؟!"۔ (23)
ترجمہ: کیا تمہاری رائے کہ اگر میرے والد نے متعہ سے نہی کی ہے جبکہ رسول اللہ نے اس کو سنت قرار دیا ہے، تو ہم سنت کو ترک کرکے میرے والد کے قول کی پیروی کریں؟۔
2۔ ایک حدیث (صحیح مسلم میں) جابر بن عبداللہ الانصاری سے نقل ہوئی ہے کہ انھوں نے کہا: ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں مختصر سا آٹا اور کھجوریں بطور مہر ادا کرکے کچھ دنوں کے لئے متعہ کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ ابوبکر کے زمانے میں جاری رہا حتی کہ "عَمرْو