ابنا: یمن میں شروع ہونے والی تحریک کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہونے کو ہے اورسابق ڈکٹیٹر علی عبد اللہ صالح کی حکومت سے کنارہ کشی کے باوجود اب بھی سابق حکومت کے حکام یمن کے سیاسی نظام پر مسلط ہیں اور اس مسلے نے یمن کی عوام کو تشویش میں اضافہ کردیا ہے یمن کے عوام عبد اللہ صالح کی باقی ماندہ عناصر کو انقلاب کے لئے خطرہ محسوس کر ر ہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ وہ لائحہ عمل جو، موجودہ حکمرانوں نے امریکہ اور جنوبی خلیج فارس کے ساحل پر واقع بعض عرب ممالک کےساتھ مل کر اس ملک کے خلاف مشترکہ طور پرآما د ہ کیا ہے اس کی بنا پر امکان موجود ہے کہ یمن کا انقلاب اپنے بنیادی خطوط سے منحرف ہوجائے چنانچہ اس ملک کے عوام کی ہی درخواست پر یمن کے انقلابی دھڑوں نے سابق حکومت کے بچے ہوئے خونخواروں کے خلاف مظاہرہ جاری رکھتے ہوئے علی عبد اللہ کے قریبی پٹھوؤں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت عبد اللہ صالح کا نائب عبد ربہ منصور ہادی صدر کے عنوان سے یمن کی حکومت پر قابض ہے اس نے امریکہ اور سعودی عرب کے کارندوں کی ایما پر ایک نمائشی انتخابات کراکے یمن کی حکومت پر غاصبانہ قبضہ کرلیا ہے۔ان تمام باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت بھی موجود ہ حکومت کے حکام کی باگ ڈور یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح کے ہاتھوں میں ہے اور یہ ایسے وقت میں ہے کہ یمن کے عوام عبد اللہ صالح کو ملک کے عوام کا قاتل و غارت گر سمجھتے ہیں۔چنانچہ یمن کی حقوق انسانی تنظیم کی وزارت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوری دوہزار گیارہ سے یمن میں عوامی انقلاب کے آغاز سے آج تک تقریبا دو ہزار سے زائد افراد شہید اور بائیس ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں اور یہ سب شہید یا زخمی ہونے والے افراد یمن کے عام شہری ہیں جو مسالمت آمیز انداز سے اپنے مطالبے پیش کرتے ہوئے عبد اللہ صالح کی سیکورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں ۔ ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح کی حکومت کا فوجی یا پولیسی نظام ایک بدترین ظالمانہ نظام تھا اور اس وقت یمن کا موجود ہ صدر عبد ربہ منصور ہادی اسی بدترین نظام کی ایک فرد ہے یہی وجہ ہے یمن کےعوام اور تمام انقلابی اور سیاسی گروہ عبد ربہ منصور ہادی کو اسی خونخوار آمرانہ نظام کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں کہ پچھلی تین دہائیوں تک جس کاصالح سر فہرست رہا ہے لہذا یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ موجودہ صورت حال میں جب کہ یمن میں مہرے کے طور پرصرف حاکم کی تبدیلی ہوئی ہے تو کیا اس ملک کے سیاسی نظام اور ڈھانچے کی حقیقی اصلاح اور نظام کے ڈھانچے میں کسی حقیقی اصلاح اور خاطر خواہ تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے ؟یمن کے عوام نے اسی لئے مستقبل میں اپنے ملک کے سیاسی نظام سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے طے شدہ پروگرام کے مطابق انتخابات کے ذریعے عبد ربہ منصور ہادی کے اقتدار پر قابض ہوجانے کے بعدبھی صالح سے وابستہ تمام عناصرکی حکومت سے کنارہ کشی کا مطالبہ کیا ہے ۔کیوں کہ اس ملک کے عوام، عبد ربہ منصور ہادی کو امریکہ اورسعودی عرب کے پٹھوں صالح کا آلہ کار سمجھتے ہیں جسے عوامی انقلاب کو پامال کرنے اور سابق آمرانہ نظام کو مزید مستحکم و پائدار کرنے کے لئے برسر اقتدار لایا گیا ہے یمن کے انقلابی گروہوں نے ان سازشوں کو درک کرنے کے بعد ،جو امریکہ اور جنوبی خلیج فارس کے ساحلی علاقوں پر واقع سعودی عرب کی مانند ممالک نے رچی ہیں ،جو اس ملک کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں ،یمن کے موجودہ حکمرانوں کے خلاف عوام سے مظاہرہ جاری رکھنے کی تاکید کی ہے اور اس ملک کے تمام عوام سے درخواست کی ہے کہ جب تک انقلابیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے اپنے مصالحت آمیز مظاہرے جاری رکھیں۔ .....
/169