9 مارچ 2012 - 20:30

ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا ایران کے بارے میں اجلاس گزشتہ روز ویانا میں منعقد ہوا اجلاس میں ایران کے ایٹمی مسئلے کو زیر بحث لایا گیا۔گزشتہ روز کے اجلاس میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی ایک بار پھر حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے اعلامیے میں آیا ہے کہ یہ گروپ ترقی،تحقیق اور پر امن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی کے حصول کوتمام ممالک کا بنیادی حق سمجھتا ہے اور اس میں ہر قسم کے امتیاز کا مخالف ہے۔نم سے موسوم اس گروپ کے اعلامیے میں مزید آیا ہے کہ ایٹمی تنصیبات پر حملے کو عالمی سطح پر ممنوع قرار دیا جائے

ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک نے مذاکرات کو ایران کے ایٹمی مسئلے کا بہترین حل قرار دیا ہے۔ادھر گروپ پانچ جمع ایک گروپ نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بغیر کسی پیشگی شرط کے ایران کے ساتھ مزاکرات شروع کرنے پر تاکید کی ہے

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں موجود مغربی ممالک ایران کے خلاف سخت موقف لینا چاہتے تھے لیکن روس اور چین نے ان کی حمایت نہیں کی۔ آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے اجلاس کے اختتام پر کہا ہے کہ امریکہ کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایران کے مقابلے میں سفارتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ علی اصغر سلطانیہ نے ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایک سو رکن ممالک کی طرف سے ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت ایک ثبوت اور ڈاکومینٹ کے طور پر ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے میں رجسٹرڈ ہوگیاہے۔ آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ ایٹمی تنصیبات کے خلاف ہر قسم کی دھمکی اور حملہ عالمی قوانین اور آئی اے ای اے کے منشور کی خلاف ورزی ہے لہذا سلامتی کونسل اور ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کی دھمکیوں کے خلاف فوری اقدامات کرے

آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہے کہ ایران تمام امن دوست ممالک سے تعلقات میں فروغ کا استقبال اور ہر قسم کی دھمکیوں اور حملوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے. .......

/169