6 مارچ 2012 - 20:30

لیبیا کے شہر بن غازی میں کل سیاستدانوں ، قبائلی عمائدین ، لیبیا کی بعض اہم شخصیات اور انقلابیوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں لیبیا کے مشرقی علاقے کو ایک خود مختار علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس اجلاس میں تقریبا تین ہزار افراد نے شرکت کی۔

ابنا:  مصر کی سرحد سے لے کر سرت شہر تک کے علاقے برقہ کو لیبیا کا پہلا خود مختار علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں لیبیا کے سابق بادشاہ ملک ادریس کے چچا زاد بھائی احمد زبیر احمد شریف السنوسی کی قیادت میں برقہ کے خود مختار علاقے کے لۓ عبوری کونسل کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ لیبیا کے مشرقی علاقے کی خود مختاری کا اعلان ایسے وقت کیاگیا ہے کہ جب لیبیا میں جون کے مہینے میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبد الجلیل نے مشرقی علاقے کی خود مختاری کے اعلان کو عرب ملکوں کی سازش قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ لیبیا میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس ملک کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے جو اس ملک کےقومی اتحاد کے لۓ خطرہ ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے لیکن ہمیں لیبیا کے مشرقی علاقے میں خود مختاری کے اعلان کو عرب ملکوں کی سازش سمجھنے سے قبل ان ممالک کو تقسیم کرنے کا امریکہ کا اقدام جاننا چاہۓ جن میں واشنگٹن کے مفادات پاۓ جاتے ہیں۔ امریکہ کے سناریو کے ساتھ شمالی افریقہ میں خود مختاری کا جو پہلا اعلان کیا گيا تھا اس کا تعلق سوڈان سے ہے۔ سنہ دو ہزار پانچ میں جنوبی سوڈان میں امریکہ کے توسط سے خرطوم حکومت اور شورش کرنے والوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے چھ سال کے بعد جنوبی سوڈان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھر کر سامنے آیا۔

اب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ یہی تجربہ لیبیا میں دہرانا چاہتا ہے۔ لیبیا میں تیل اور گیس کے عظیم ذخائر موجود ہیں۔ توانائي کے ذخائر لیبیا کو للچائي ہوئي نظروں سے دیکھنے کے لۓ امریکہ اور یورپ کے لۓ قوی محرک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مختلف ٹکڑوں میں تقسیم شدہ لیبیا بڑی آسانی کے ساتھ امریکہ اور نیٹو کو اس ملک کے تیل اور گیس کے ذخائر سے قریب کر سکتا ہے۔ اسی مسئلے کے پیش نظر بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مشرقی علاقے میں خود مختاری کا اعلان یورپ کے اکسانے پر کیا گیا ہے۔

لیکن یہ اعلان اس علاقے کے رہنماؤں کی زبان سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ظاہرکیا جاۓ کہ یہ ایک داخلی مسئلہ ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ سنہ انیس سو اکیاون میں لیبیا کی خود مختاری کے بعد دس برس تک اس میں فیڈرل حکومتیں قائم تھیں۔ اس عرصے میں مشرقی لیبیا میں برقہ ، جنوبی لیبیا میں فزان اور مغربی لیبیا میں طرابلس کے علاقوں میں فیڈرل حکومتیں قائم تھیں اور اب یہ بعید نظر نہیں آتا ہے کہ یورپ اور بعض دوسرے مفاد پرست ممالک لیبیا میں دوبارہ اسی منصوبے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ ......../169