5 مارچ 2012 - 20:30

روس کے دارالحکومت ماسکو ميں دسيوں ہزار شہريوں نے مظاہرہ کرکے اپنے ملک ميں مغرب کي مداخلت کي مذمت کي ہے -

ابنا: ماسکو سے ہمارے نمائندے نے خبردي ہے کہ   پچاس ہزارسے زائد روسي شہريوں نے پير کي شام قصر کرملين کے قريب واقع مانژ اور تياتر النايا چوک ميں اجتماع کرکے کامياب ہونےوالے صدارتي اميدوار ولاديمير پوتين کے لئے اپني حمايت کا اعلان کيا اور روس کے داخلي معاملات ميں مغرب کي مداخلت کي مذمت کي - روس کے منتخب صدرولاديمير پوتين کے حاميوں نے اپنے ملک ميں ہر قسم کي غير ملکي مداخلت کامقابلہ کرنے کے لئے باہمي اتحاد و يکجہتي کي ضرورت پر زورديا -

      اس سے پہلے اتوار کي رات بھي ماسکو ميں کرملين جانےوالي سڑکوں پر ايک لاکھ سے زائد کي تعداد ميں پوتين کے حاميوں نے اجتماع کرکے اپنے اميدوار کي کاميابي کا جشن منايا تھا- ان اجتماعات ميں شريک لوگ ايسے بينر اور پلي کارڈ اٹھائے ہوئےتھے جن پر لکھا تھا پوتين ہمارے صدر ہيں ، پوتين کي حمايت ملک کے استحکام کي حمايت ہے ، اور ہمارا محبوب صدر دوبارہ واپس آگيا ہے -

   رپورٹ کے مطابق روس کے مختلف شہروں سے ماسکو پہنچنے والے  روسي عوام مسلسل نعرے لگار ہے تھے کہ پوتين ہم تمہارے ساتھ ہيں اور رنگين انقلاب مردہ باد-   حکمراں يونائيٹڈ رشيا پارٹي کے سينئر ليڈر آندرے ايساف نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پوتين کے آ‏جانے سے روس پہلے سے زيادہ طاقتور ہوجائے گا اور تمام سازشوں پر روس غلبہ حاصل کرنے کي توانائي حاصل کرلے گا - حکمراں جماعت کے ايک اور ليڈر سرگئي نوروف نے بھي کہا کہ پوتين کے دور صدارت ميں روس کا مستقبل تابناک نظر آرہا ہے اور وہ ڈيموکريسي کے حامي ہيں -روس کے مقبول کھلاڑي ويا چسلاؤ فتيسوف نے بھي جو روس کي ہاکي ٹيم کے کوچ بھي رہ چکے ہيں پوتين کے حاميوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ولاديمير پوتين نے روسي عوام کو يہ موقع فراہم کيا کہ وہ مشکل حالات ميں بھي ترقي کريں اور رفاہ و آسائش حاصل کريں-

      روس کے مرکزي اليکشن کميشن کے اعلان کے مطابق روس کے صدارتي انتخابات ميں ولاديمير پوتين نے چونسٹھ فيصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے واضح کاميابي حاصل کرلي ہے روس ميں صدارتي انتخابات اتوار کو ہوئے تھے-.......

/169