26 فروری 2012 - 20:30

گروپ بيس کے وزرائے خزانہ کے اجلاس ميں شديد اختلافات سامنے آئے ہيں-

ابنا: يورو زون کے بحران کا جائزہ لينے کے ليے ميکسکو سٹي ميں شروع ہونے والے گروپ بيس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس ميں يورپي يونين کے رکن ممالک اور ان کے شرکا کے درميان لفظي جھڑپيں ہوئي ہيں- ايسے حال ميں جب يونان کے ليے اقتصادي پيکيج کي منظوري کے سبب يورپي بازاروں ميں کسي حد تک سکون نظر آنے لگا تھا، يورپي يونين اور ان کے غير يورپي شرکا کے درميان اس بحران کے مينيجمنٹ اور اس کے نتائج کے بارے ميں شديد اختلافات سامنے آئے ہيں- گروپ بيس يا جي ٹوينٹي کے وزرائے خزانہ اور مرکزي بينکوں کے سربراہوں کي نشست کے آغاز ميں ہي جرمني اور اس کے بعض شرکا کے درميان يورو زون کے بحران سے نمٹنے کي راہوں کے بارے ميں جھڑپ ہو گئي-
امريکا، کينيڈا اور جاپان جيسے ممالک نے يورو زون کے بحران کو پھيلنے سے روکنے کے ليے اس علاقے پر شديد دباؤ ڈالنا شروع کر ديا ہے-
ان کا کہنا ہے کہ يورو زون کو، يورپ کے اقتصادي ثبات کي دائمي راہوں کو يورپ کے مالي ثبات کے عارضي ادارے ميں مدغم کر دينا چاہيے تاکہ وہ يورو زون کے بحران کي روک تھام کے ليے ايک ٹريلين ڈالر کا فنڈ مہيا کر سکے-

يورو زون کے ممالک، اس علاقے کے بحران زدہ ملکوں کو قرض دينے کے ليے ايک سو پچاس ملين يورو کا بجٹ فراہم کرنے پر متفق ہو گئے ہيں تاہم انہيں مزيد امداد کي ضرورت ہے ليکن يورپ کے سب سے بڑے حليف امريکا نے بارہا مختلف بہانوں سے يورپ کو مزيد قرض دينے سے انکار کيا ہے-
........

/169