25 فروری 2012 - 20:30

حکومت شام کے اعلی حکام کی اصلاحات سے متعلق کوششوں اور شام کے عوام کے مطالبات پورا کرنے کے سلسلے میں اس ملک کے نئے آئین کے بارے میں ریفرینڈم آج منعقد ہو رہا ہے۔

ابنا: حکومت شام کے اعلی حکام کی اصلاحات سے متعلق کوششوں اور شام کے عوام کے مطالبات پورا کرنے کے سلسلے میں اس ملک کے نئے آئین کے بارے میں ریفرینڈم آج منعقد ہو رہا ہے۔

اس بنا پر آج شام کے عوام اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ملک کے نئے آئین کے مسودے پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ شام کی وزارات داخلہ کے اعلان کے مطابق اس ملک کے ساڑھے چودہ ملین افراد اس ریفرینڈم میں شرکت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

شام میں نئے آئین کے بارے میں ریفرینڈم ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب اس سے پہلے شام کے اعلی حکام نے اس ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں عوام کے نمائندے شریک تھے اور انیس سو تہتر میں بنائے جانے والے شام کے آئین میں تبدیلی و اصلاحات کی کوششیں کی تھیں۔

ان اصلاحات میں سب سے اہم پہلو پرانے آئین کی آٹھویں شق کو ختم کرنا تھا کہ جس میں شام کے معاشرے کی قیادت کے سلسلےمیں بعث پارٹی کے کردار پر تاکید کی گئي تھی اور اس کی جگہ پر متعدد پارٹیوں کو لانے کی بات کی گئی تھی۔

نئے آئین میں بعث پارٹی کو حکمراں پارٹی کے عنوان سے بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کی جگہ کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے نصف نمائندے مزدوروں اور کسانوں میں سے ہونےچاہئیں۔

آئین کی اٹھاسیویں شق کے مطابق اس ملک کا صدر سات سال کے لئے منتخب ہوگا اور وہ صرف دو بار صدر بن سکے گا۔ یہ قانون دوہزار چودہ کے صدارتی انتخابات سے لاگو ہو گا۔
اس لحاظ سے نئے آئین میں پارٹیوں کے متعدد ہونے اورصدارتی دور کے صرف سات سال تک محدود کئے جانے اور زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ صدر ہونے منتخب ہونے پر تاکید کی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شام کا نیا آئین، سیاسی جماعتوں کی تعداد میں اضافے، آزادی کی ضمانت اور اکثر سیاسی گروہوں میں اس کی مقبولیت اور پرانے آئین کی بہت سی شقوں میں اصلاح کے بعد اس ملک کے حالیہ بحران کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شام میں نئے آئین کی تدوین حالیہ دنوں میں شام کے صدر بشار اسد کا ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔ ایسا اقدام جو ظاہر کر رہا ہے کہ شام ، علاقے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں، جو دمشق کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، سیاسی اعتبار سے کہیں زیادہ آزاد ہے۔

اس سے پہلے بھی بشار اسد نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی انجام دہی کے سلسلے میں ملک میں ہنگامی حالت کو ختم، انتخابات، پارٹیوں اورذرائع ابلاغ سے متعلق نیا قانون وضع اور اعلی سیکورٹی عدلیہ کو تحلیل کر کے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے اور ترقی کی راہ ہموار کرنے میں اپنے عزم و ارادے کا بھرپور اظہار کیا تھا۔

بشار اسد کی جانب سے وسیع پیمانے پر اصلاحات ایک ایسے وقت میں انجام دی جا رہی ہیں کہ جب علاقے کے بہت سےملکوں کی جانب سے مسلح دہشت گرد گروہوں کی حمایت، شام میں بعض غیرملکیوں کی بےجا مداخلت، سیکورٹی فوج اور نہتے عوام کے قتل نے اس ملک کی فضا کو کشیدہ بنا دیا ہے اور ان باتوں سے ان کا مقصد شام میں اصلاحات کے عمل کو ناکام بنانا ہے ۔
لیکن بشار اسد نے اصلاحات کو جاری رکھنے پر زور دے کر کہ جن کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے، ظاہر کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ شام میں اصلاحات کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران شام کے عوام نے ملک کے مختلف شہروں میں دسیوں لاکھ افراد پر مشتمل مظاہرے کرکے ملک کے داخلی امور میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اصلاحات کے عمل کی حمایت کی ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف دشمنوں کی سازشیں دنیا کے بہت سے انصاف پسند ملکوں کی حمایت کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہوئي ہیں۔
.......

/169