اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں قابض و جارح افواج کی طرف سے قرآن کریم کی توہین پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے مذمتی بیان جاری کیا ہے۔اس بیان میں ایک طرف سے افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قابض فوجوں کو ملک سے نکال باہر کرکے ان بے حرمتیوں کا ہمیشہ کے لئے سد باب کرے تو دوسری طرف سے امریکیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ جس طرح کہ افغانستان کے مسلم عوام نے امریکی فوجیوں کے اڈے پر حملہ کرکے ثابت کیا کہ وہ قرآن کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کریں گے دنیا کے دوسرے ممالک کے مسلمان بھی انہیں سزا دیں گے۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے بیان کا مکمل متن:
بسم الله الرحمن الرحیمولَقَد صَرَّفْنَا فِي هَذَا القُرآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزيدُهُم إلاَّ نُفُورا۔
(سوره مبارکه اسراء ـ آیه 41)
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر (منکرین کا عالم یہ ہے کہ) اس سے ان کی نفرت ہی مزید بڑھتی جاتی ہے۔
ایسے حال میں کہ دنیا کے مسلمان قرآنی تعلیمات کو نئے انداز سے روبعمل لا کر اسلامی بیداری کی بہار دنیاوالوں کے سامنے لائے ہوئے ہیں اور شیطان کے نوکروں کو یکے بعد دیگرے تخت اقتدار سے خاک ذلت پر گرا رہے ہیں، اسلام دشمن قوتیں اس بیداری کے اصل سرچشمے یعنی قرآن کی نسبت اپنی نفرت و عداوت کا بھرپور مظاہرہ کرنے لگی ہیں۔اسی سلسلے میں افغانستان پر قابض امریکی جارحین نے صرف جارحیت اور قتل عام پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے ایک نہایت بے شرمانہ اقدام کے ضمن میں کئی دینی کتب کو ـ جن میں قرآن کریم کے متعدد نسخے بھی موجود تھے ـ بگرام کے فوجی اڈے میں نذر آتش کئے ہیں۔ اس اقدام کی منصوبہ بندی بے عقل و سفیہ امریکی پادری نے کی تھی جس نے دنیا کے تمام آسمانی ادیان کے پیروکاروں کے غم و غصے کے موجبات فراہم کئے تھے۔ اس جرم عظیم کے سلسلے میں، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، جو دنیا بھر کے سینکڑوں مسلم علماء اور دانشوروں نیز مفکرین کا مجموعہ ہے، اور کروڑوں دینداروں کی فکری اور علمی مرجعیت کی حیثیت رکھتی ہے، دنیا والوں کی توجہ مندرجہ ذیل نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے:1۔ کسی بھی دین اور کسی بھی تہذیب و ثقافت کی توہین، بےعقلی اور سفاہت، جاہلیت اور تعصب پر مبنی اقدام ہے۔ یہ اقدام تمام حریت پسند، دوراندیش اور عقلمند انسانوں کے نزدیک قابل مذمت ہے اور تمام ادیان و مذاہب کے حقیقی پیروکار اس طرح کے اقدامات سے بیزاری کا اظہار و اعلان کرتے ہیں۔2۔ اس وقت جبکہ بڑی طاقتوں نے پوری دنیا کو اپنے فوجی اڈوں اور افواج کے ٹھکانوں میں تبدیل کردیا ہے، ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مقدسات اور جذبات و احساسات کی توہین ان کے لئے معمول کے ایک چھوٹے سے مسئلے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ 3۔ قرآن کریم اللہ تعالی کا پیغام، ثقل اکبر اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یادگار ہے جو لوگوں کو ایمان، اخوت، امن و آشتی، مکالمے، نیک اخلاق، غرباء اور محرومیں کی مدد و حمایت، علم آموزی، ترقی، اللہ کی عبادت، خودسازی اور اصلاح نفس، تقوی، پرہیزگاری اور برائیوں کے خلاف جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔ پس، کیا عقل اور وجدان و ضمیر قبول کرتا ہے کہ ان خصوصیات اور تعلیمات کی حامل کتاب کی توہین کی جائے؟ کیا قرآن کے احکامات تمام آسمانی ادیان کے مشترکہ احکامات نہیں ہیں؟4۔ جس طرح کہ دارالحکومت کابل اور افغانستان کے دوسرے شہروں کے عوام نے امریکی قابضین و جارحین کے اڈے پر حملہ کرکے، ثابت کر دکھایا کہ وہ قرآن کی توہین کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کریں گے، دنیا کے دوسرے ممالک کے مسلمان بھی امریکیوں اور ان کے کٹھ پتلیوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے شکست خوردہ اقدامات کو دہرائیں گے تو وہ انہیں قرار واقعی سزا دیں گے۔ 5۔ افغانستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان بے حرمتیوں کی تکرار اور دہرائی کا فوری طور پر سد باب کریں۔ بے شک توہین اور بے حرمتی کے اس سلسلے کا سد باب کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ جارح قوتوں کو افغانستان سے فوری طور پر نکال باہر کیا جائے جس طرح کہ عراقی حکومت نے امریکیوں کو ان کے گھر بھجوادیا اور اپنے ملک کی سلامتی کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ 6۔ نیز توقع کی جاتی ہے کہ اقوام متحدہ، یونسکو، اسلامی کانفرنس تنظیم جیسے عالمی ادارے نیز اسلامی ممالک کی حکومتیں بھی قانونی راستوں سے اس طرح کے اقدامات کا سد باب کرنے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اس طرح کے اعمال ادیان الہی کے پیروکاروں کے درمیان دراڑیں پڑنے کا سبب بنتے ہیں اور مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان اختلاف کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔ 7۔ آخر میں اس اہم حقیقت پر ایک بار پھر تاکید کرتے ہیں کہ اگر مسلمانان عالم اسلامی وحدت و اتحاد کی ضرورت کو سنجیدہ لیں تو دشمنوں اور مستکبرین کے پاس حق و فضیلت کے سامنے سر تسلیم خم کرے کے سوا کوئي چارہ باقی نہ رہے گا۔
وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَن آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ؛ رَبَّنَا أَفرِغْ عَلَيْنَا صَبراً وَتَوَفَّنَا مُسلِمين۔
(سوره مبارکه اعراف ـ آیه 126)
ترجمہ: اور تمہیں ہمارا کون سا عمل برا لگا ہے؟ صرف یہی کہ ہم اپنے رب کی (سچی) نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جب وہ ہمارے پاس پہنچ گئیں؟ اے ہمارے رب! تو ہم پر صبر کے سرچشمے کھول دے اور ہم کو (ثابت قدمی سے) مسلمان رہتے ہوئے (دنیا سے) اٹھالے۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی22 فروری 2012