اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ایک محقق محمد السعیدی نے آل سعود اور آل خلیفہ کی اس خیانت کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بحرین ایک چھوٹا ملک ہے اور اس کے تیل کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں اور اس کو ایک بڑے ملک کے سہارے کی ضرورت ہے تا کہ اس ملک کے سرپرست اور حامی کا کردار ادا کرے۔
محمد السعیدی نے دعوی کیا کہ اس طرح بحرین میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم ہونگے اور اس ملک میں وسیع سرمایہ کاری ہوسکے گی۔
انھوں نے آل سعود کے ایک وسیع تر منصوبے اور علاقے پر سعودی وہابیت کے تسلط کے سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا: خلیج فارس تعاون کونسل کو اب کنفیڈریشن میں بدلنا چاہئے کیونکہ یہ امر ان ریاستوں کی معاشی اور سیاسی صورت حال کی بہتری کے لئے ضروری ہے اور یوں علاقے میں فرقہ وارانہ تناؤ کا بھی خاتمہ ہوسکے گا۔
ادھر سعودی عرب کی ملک عبدالعزیز یونیورسٹی کے استاد "طارق کوشک" نے بھی اعتراف کیا کہ علاقے میں فرقہ واریت کو ہوادینے کے سلسلے میں ایک بڑی تشہیری جنگ چھڑ گئی ہے۔
انھوں نے البتہ یہ بتانے سے گریز کیا کہ اس فرقہ وارانہ جنگ کا منشأ اور منبع آل سعود ہے جس نے متعدد ٹی وی چینلوں کے ذریعے اس گندی جنگ کا آغاز کیا ہے اور عملی طور پر بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں آل سعود کی دولت اور تشہیری مہم کے وسیلے سے فرقہ واریت کو ہوا دینے کی خونی اور یکطرفہ جنگ لڑی جارہی ہے۔
یادرہے کہ ایک طرف سے آل سعود نے کنفیڈریشن اور علاقے پر اپنے تسلط کا منصوبہ پیش کیا ہے تو دوسری طرف سے قطر کے آل ثانی خاندان نے سعودی عرب پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے جس میں کئی سعودی شہزادے بھی شامل ہیں اور امریکہ اور یورپ میں بھی اس حوالے سے آل ثانی خاندان کی حمایت ہورہی ہے۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے: