ابنا: بان کی مون نے لبنان کے صدر میشل سلیمان ، وزیر اعظم نجیب میقاتی اور اسپیکر نبیہ بری سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں لبنانی حکام نے بین الاقوامی قراردادوں پر بیروت کے عمل درآمد پر زور دیا۔ میشل سلیمان نے بان کی مون کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں صہیونی ریاست کے مقابل بحیرہ روم کے تیل کے ذخائر سے استفادہ پر مبنی لبنان کے حق پر تاکید کی۔وزیراعظم نجیب میقاتی نے بھی بان کی مون کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کی آئے دن کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صہیونی ریاست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سترہ سو ایک پر عمل نہیں کر رہی ہے اور تقریبا" روزانہ لبنان پر زمینی ، سمندری اور ہوائي حملہ کرتی ہے۔یہ حملے ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ اقوام متحدہ اہم ترین بین الاقوامی اور عالمی امن و امان کا محافظ ادارہ ہونے کی حیثیت سے لبنان میں صہیونی ریاست کی جنگ پسندی اور اشتعال انگیزی کے خلاف کوئي ایکشن نہیں لیتی ہے۔بان کی مون کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبی بری نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سنہ دو ہزار چھ میں لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کی تینتیس روزہ جنگ کے بعد صہیونی ریاست نے اقوام متحدہ کی کسی بھی قرارداد پر عمل نہیں کیا ہے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سمندری حدود کا تعین کرے لیکن بان کی مون نے ان تمام شکایات اور صہیونی ریاست کی طرف سے لبنان کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کئے جانے کے واقعات کے باوجود استقامت اور حزب اللہ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔بیروت میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے حزب اللہ سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا جس پر لبنان کی مختلف تنظیموں اور شخصیتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔لبنان کی مختلف تنظیموں اور جماعتوں نےبیروت میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرکے بان کی مون کے دورہ لبنان کی مذمت کی۔لبنان کی مرابطون جماعت کے سربراہ مصطفی حمدان نے مظاہرے کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ بان کی مون امریکی نظر سے فلسطین ، لبنان اور علاقے کا مشاہدہ کرتے ہیں۔لبنان کی قومی شخصیتوں اور جماعتوں کی یونین نے بھی ایک بیان جاری کرکے بان کی مون کے بیانات پر تنقید کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے حالیہ برسوں کے مواقف عام طور سے لبنان اور استقامت کے مفادات کے منافی ر ہے ہیں۔حزب اللہ نے بان کی مون کے کردار کو واشنگٹن اور تل ابیت کی خدمت میں امریکی حربہ کے مترادف قراردیا ہے۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ لبنانی وزیر خارجہ بھی بان کی مون کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے ان کے دورہ لبنان کے موقع پر بیروت سے لیبیا کے دورہ پر روانہ ہوگئے۔دریں اثنا لبنان کی بہت سی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی اس موقع پر اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ بان کی مون کو عالمی برادری کا نمائندہ نہیں سمجھتی ہیں کہا ہے کہ بان کی مون صرف امریکی اور صہیونی منصبوبوں پر عمل درآمد کے لئے لبنان آئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110