10 دسمبر 2011 - 20:30

بحرين ميں عوام کے انقلابي مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے-

ابنا: بحرين کے مختلف شہروں اور علاقوں ميں آل خليفہ حکومت کے خلاف کئي مہينوں سے جاري پرامن مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاري ہے- دوسري جانب بحرين ميں انساني حقوق کے مرکز نے ہيگ کي بين الاقوامي عدالت ميں مسلح افواج کے سربراہ فيلڈ مارشل خليفہ بن احمد کے خلاف رد جرم پيش کر دي ہے-

اس رپورٹ کے مطابق آل خليفہ حکومت کے عہديداروں نے جو اس ملک کے عوام کے انقلاب کو روکنے ميں ناکام ہو گئے ہيں اور سعودي عرب کے فوجيوں کي مدد اور ديگر حربوں سے انقلاب کي سرکوبي نہيں کر سکے ہيں، مظاہروں کو پر تشدد اور قبائلي اختلاف ظاہر کرنے کي کوشش کي ہے، تاہم بحرين کے حالات ان کے ان دعووں کي قلعي کھول ديتے ہيں-

بحرين ميں انساني حقوق کے مرکز کے سربراہ نبيل رجب نے کہا ہے کہ آل خليفہ حکومت بحريني عوام کے مظاہروں اور جد و جہد کو پر تشدد ظاہر کرنا چاہتي ہے تاہم بحرين کا عوامي انقلاب، عرب ملکوں ميں آنے والے انقلابوں ميں سب سے پرامن انقلاب ہے-

ادھر سعودي عرب کي نامزد پارليمنٹ کے اسپيکر عبداللہ محمد بن ابراہيم آل شيخ نے کہا ہے کہ سعودي عرب کي حکومت ہميشہ بحرين کے فرمانروا اور حکومت کا ساتھ دے گي- انہوں نے بحريني مظاہرين کے خلاف سعودي عرب کے فوجيوں کے جرائم کي جانب اشارہ کيے بغير کہا کہ بحرين ميں خليج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے فوجيوں کي موجودگي ايک دانشمندانہ فيصلہ ہے- بحرين حکومت کي حمايت ميں سعودي عرب کے اسپيکر کا يہ بيان ايسے عالم ميں سامنے آيا ہے جب بحرين کي سيکوريٹي فورس نے سعودي عرب کے فوجيوں کے ساتھ مل کر دسيوں مظاہرين کو شہيد کيا ہے اور آل خليفہ حکومت نے بھي اس بات کو تسليم کيا ہے کہ اس کے فوجيوں نے بحريني شہريوں کے خلاف انساني حقوق کي خلاف ورزي کي ہے ــ.......

/169