13 نومبر 2011 - 20:30

امریکہ کے دعووں اور بعض نامعلوم ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ایران سے متعلق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ ان دنوں ایران مخالف بے بنیاد پروپیگنڈے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

ابنا: امریکہ کے دعووں اور بعض نامعلوم ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ایران سے متعلق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ ان دنوں ایران مخالف بے بنیاد پروپیگنڈے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اس تشہیراتی مہم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوۓ صہيونی وزیر اعظم نے بھی اتوار کے دن کابینہ کے اجلاس میں دعوی کیا کہ یوکیا آمانو کی رپورٹ سے ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں توسیع سے متعلق اسرائيل کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اسرائيلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے سب کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ نیتن یاہو نے عالمی برادری کو اس سلسلے میں فوری طور پر اقدام انجام دینے کی دعوت دی ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی کچھ عرصہ قبل انہی سے ملتے جلتے بیانات کے ذریعے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوۓ دعوی کیا تھا کہ صرف امریکی حکومت کو ہی ایران سے خطرہ محسوس نہیں ہورہا ہے بلکہ ساری دنیا ایران سے خطرہ محسوس کررہی ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بے بنیاد دعوے ایسی حالت میں کۓ جارہے ہیں کہ جب صہيونی رياست کے پاس سیکڑوں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور یہ حکومت خطے اور دنیا کی سلامتی کے لۓ ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ حکومت مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والی واحد حکومت ہے اور اسے امریکہ ، فرانس اور برطانیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امریکہ ، روس ، فرانس ، برطانیہ اور چین کے ایٹمی گوداموں میں ستائیس ہزار سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ جو برسوں سے دنیا کے لۓ خطرہ بنے ہوۓ ہیں۔ امریکہ ایک جانب روس کے ساتھ ایٹمی وار ہیڈز میں کمی سے متعلق معاہدے پر دستخط کرتا ہے تاکہ ظاہر کرے کہ وہ ہتھیاروں کی نابودی کے معاملے میں سنجیدہ ہے لیکن دوسری جانب اس نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرنے اور ایٹمی وار ہیڈز کی تیاری کے مقصد سے نئی تنصیبات کے لۓ ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مختص کی ہے۔ معتبر رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں سنہ دو ہزار ایک میں ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ اور ان میں توسیع کے لۓ جو بجٹ مختص کیا گيا تھا سنہ دو ہزار گيارہ میں اس بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ کردیا گیا۔ امریکہ نے یورپ میں اپنے دو سو سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز نصب کر کے نہ صرف اس خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ این پی ٹی معاہدےکی بھی خلاف ورزی کی ہے اس لۓ کہا جاسکتا ہےکہ ایران فوبیا پر مبنی دعوی صہيونی رياست کو نجات دلانے کے سلسلے میں بولا جانے والا ایک جھوٹ ہے جو کہ راۓ عامہ کو دھوکہ دینے کےلۓ بولا جارہا ہے۔

...........

/169