ابنا: ہندوستان ميں دو ہزار دو کے گجرات فسادات ميں تينتيس مسلمانوں کو زندہ جلانے کے الزام ميں اکتيس ہندوؤں کو عمر قيد کي سزا سنائي گئي ہے- موصولہ رپورٹ کے مطابق گجرات کي ايک عدالت نے گجرات کے سردار پورہ علاقے ميں گجرات کے مسلم کش فسادات کے دوران بارہ بچوں سميت تينتيس افراد کو انتہائي درندگي اور سفاکي کے ساتھ زندہ جلانے کے الزام ميں تہتر ملزمين کے مقدمے کا فيصلہ سناتے ہوئے اکتيس افراد کو مجرم قرار ديا ہے اور انہيں عمر قيد کي سزا سنائي ہے جبکہ گيارہ افراد کو عدم ثبوت اور اکتيس افراد کو شبہے کا فائدہ ديتے ہوئے بري کر ديا ہے- عدالت نے اسي کے ساتھ مجرمين کو پچاس ہزار روپے کا جرمان ادا کرنے کا بھي حکم ديا ہے-
واضح رہے کہ دو ہزار دو ميں گودھرا ميں ہندو ياتريوں کو لے جا رہي ايک ريل گاڑي کے ڈبے ميں آگ لگ جانے کے سبب انسٹھ افراد مارے گئے تھے جس کے بعد پورے گجرات ميں مسلم کش فسادات بھڑک اٹھے تھے جس ميں دو ہزار سے زيادہ مسلمان جاں بحق ہو گئے تھے- فسادات کے دوران تقريبا ڈيڑھ ہزار افراد کے مجمع نے سردار پورہ کے علاقے ميں ايک گھر ميں پناہ ليے ہوئے مسلمانوں کو آگ ميں زندہ جلا ديا تھا جن ميں ايک آٹھ ماہ کا بچہ بھي شامل تھا-
ڈسٹرکٹ سيشن جج ايس سي شري واستو نے کہا ہے کہ عدالت نے مجرمين کو قتل، اقدام قتل، فساد برپا کرنے اور ديگر سنگين جرائم کا مرتکب پايا ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ استغاثہ نے مجرم قرار ديئے گئے افراد کو موت کي سزا سنائے جانے کا مطالبہ کيا تھا اور کہا تھا کہ گودھرا ٹرين حادثے کے بعد مسلمانوں کے خلاف انتقامي کارروائي کے تحت اس قتل عام کي سازش ايک مقامي ليڈر نے تيار کي تھي اور فساديوں ميں ہتھيار بھي تقسيم کيے تھے، تاہم عدالت نے اس قتل عام کو ايک بھيڑ کے ذريعے انجام ديا گيا جرم تصور کيا اور اکتيس مجرمين کو قتل کے جرم کي کم از کم سزا يعني عمر قيد کي سزا سنائي ہے-
يہاں يہ بات بھي قابل ذکر ہے کہ تہتر ملزمين ميں سے صرف آٹھ افراد ہي في الحال جيل ميں ہيں جبکہ باقي تمام ضمانت پر رہائي حاصل کر چکے ہيں- بہرحال ہندوستان ميں ايک عدالت کي جانب سے انتہا پسند ہندوؤں کو عمر قيد کي سزا سنائے جانے کے فيصلے سے ہندوستاني معاشرے ميں يہ پيغام گيا ہے کہ عدليہ انتہا پسندوں کے ساتھ سختي سے نمٹے گي-
يہ فيصلہ اس ملک ميں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درميان پرامن بقائے باہمي کے اصول کو پہلے سے زيادہ مضبوط بنا سکتا ہے.
............
/169