ابنا:اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بحرین سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم کارکن محمد بحرینی نے بحرین کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بحرین کے داخلی امور میں عالمی سامراج خاص طور پر سعودی عرب کی مداخلت کی پر زور مذمت کی اور وہاں عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحرین کے عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں لیکن نام نہاد جمہوریت کا حامی سامراجی ٹولہ ڈکٹیٹروں کی حمایت کر رہا ہے جو اس کے جمہوریت کے دعووں سے تضاد رکھتا ہے۔پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک سرگرم شخصیت علی حسنین نے بھی کوئٹہ کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ استعماری ایجنٹ کوئٹہ کے پرامن حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور وہاں مذہب کے نام کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں حکومت اور میڈیا کی بے حسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے لیکن حکومت اور میڈیا خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں شیعہ اور سنی برسوں سے پرامن طور پر رہتے چلے آ رہے ہیں لیکن استعماری طاقتیں اور پاکستان دشمن قوتیں مذہب کے نام پر کشیدگي کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن کوئٹہ کے عوام بیدار اور ہوشیار ہیں اور وہ ان دشمن قوتوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اس موقع پر بحرین اور کوئٹہ کے حوالے سے تصویری نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔...........
/169