14 اکتوبر 2011 - 20:30

سعودی عرب میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوۓ اس ملک کے مشرقی علاقے کے شہریوں نے بھی ایک بار پھر آل سعود کی شاہی حکومت کے خلاف مظاہرے کۓ ہیں۔

ابنا: سعودی عرب کے الشرقیہ صوبے میں واقع العوامیہ شہر کے باشندوں نے حکومت مخالف مظاہرے کر کے ملک میں اصلاحات ، سیاسی قیدیوں کی فوری آزادی اور جمہوریت کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء عوامیہ شہر کی اہم شخصیات نے بھی اجتماعی سزاؤں کی پالیسی اور سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی اندھا دھند گرفتاری پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ پرامن مظاہرے اس ملک کے عوام کا مسلم حق ہے۔ عوامیہ اور قطیف کے شہروں میں عوامی اعتراضات کا دائرہ پھیلنے اور اس کو روکنے کے سلسلے میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی ناکامی کے بعد آل سعود نے توپوں ، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ فوج کے کئی دستے اس علاقے میں روانہ کۓ ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کے باشندوں کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے اور وہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منصفانہ تقسیم اور دوسرے شہریوں کےمساوی حقوق کے خواہاں ہیں۔ آل سعود مظاہروں کو کچل رہے ہیں اور مخالفین کو وسیع پیمانے پر گرفتار کررہے ہیں اور وہ عوام کو پرامن مظاہرے کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہیں۔ اسی سلسلے میں الجمل ویب سائٹ نے مکے کی عدالت استیناف کے جج عبداللہ العثیم کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب مشرق علاقوں میں آل سعود کی پالیسیوں کے خلاف کۓ جانے والے مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والوں پر دہشتگردوں کی طرح مقدمات چلارہا ہے۔ سعودی عرب کے ایک محقق حمزہ حسن نے بھی کہا ہےکہ آل سعود کی حکومت عوامیہ شہر سے تعلق رکھنے والے شیعہ مظاہرین کو دہشتگردی کے الزام میں سزاۓ موت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حمزہ حسن نے مزید کہا ہے کہ آل سعود کی شاہی حکومت اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لۓ درباری علماء کو استعمال کررہی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے فوجیوں نے پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے والے سیکڑوں سعودی باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پرامن مظاہروں کے کچلے جانے کے بعد ہیومن رائٹس واچ کے بھیجے ہوۓ ایک سنیئر محقق کریسٹوف ویلک نے بھی کل سعودی عرب کے ہاتھوں مخالفین کی خود سرانہ گرفتاریوں پر تنقید کرتے ہوۓ ان گرفتاریوں کا سلسلہ روکنے اور قیدیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کریسٹوف ویلک نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز خود سرانہ طور پر اس ملک کے مشرقی علاقوں میں پر امن مظاہرین کو گرفتار کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں فروری کے مہینے سے اب تک ایک سو ساٹھ مخالفین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سعودی عرب میں مظاہروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آل سعود پر تنقید میں شدت آنے کے بعد امریکہ کے ایک اسٹدیز سنٹر بروکنگز نے بھی وائٹ ہاؤس کو ایک رپورٹ پیش کی ہے ۔ جس میں آیا ہےکہ عرب اقوام کی جانب سے اپنے اپنے حکمرانوں کے خلاف چلائي جانے والی تحریکوں کے پیش نظر واشنگٹن کے حکام کو آل سعود کی شاہی حکومت کے بارے میں بھی سوچنا چاہۓ ورنہ امریکہ اس خطے میں اپنے ایک اسٹریٹیجک اتحادی سے محروم ہوجاۓ گا۔........... /169