10 اکتوبر 2011 - 20:30

یورپی یونین نے ایران کے خلاف امریکہ کی مخاصمانہ اور غیرقانونی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بعض حکام کو اس یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

ابنا: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے دس اکتوبر کو لگزمبرگ میں اجلاس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے انتیس حکام کے ناموں کو ان افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے کہ جن کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور انہیں یورپی یونین کے رکن ممالک کے ویزے جاری نہیں کیے جائيں گے۔ اس فہرست میں ایران کے انٹیلی جنس، داخلہ اور ارشاد اسلامی کے وزراء کے نام شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی یورپی یونین نے ایران کے بتیس سکیورٹی اور عدالتی حکام کے نام اس فہرست میں شامل کیے تھے۔ امریکہ اور یورپی یونین کی اس نام نہاد فہرست میں ایران کے کئي ایٹمی ماہرین اور سائنس دانوں کے نام بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے اپنے بیان میں ایران میں اسمگلروں اور قاتلوں کو پھانسی دیے جانے اور ایران کے شہریوں نسلی اور مذہبی اقلیتوں اور اپوزیشن کو بقول اس کے کچلنے کو ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دے۔انسانی حقوق کے دفاع کے بہانے ایران پر دباؤ ڈالنا اب مغرب کا پرانا حربہ ہو چکا ہے اور آج دنیا اس بات کو بخوبی جانتی ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا اصلی مقصد انسانی حقوق پر تشویش نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد امریکہ اور یورپی یونین کے اندرونی چیلنجوں اور مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے جو آج عالمی میڈیا میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مغرب میں عوامی مظاہروں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کچلنا اور عوامی مطالبات کا جواب لاٹھی اور گولی سے دینا امریکہ اور یورپ میں انسانی حقوق کے نام نہاد دعویداروں کی کارکردگی کا صرف ایک نمونہ ہے۔ لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ لگزمبرگ میں جن لوگوں نے اجلاس میں شرکت کی ہے تاکہ وہ ایرانی عوام کے حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کر سکیں، عملا وہ اپنی مشکلات اور مسائل کو دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی پامالی کے بےبنیاد دعوے کو اس کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تکراری دعووں سے جوڑنے کا مقصد ایٹمی شعبے میں ایران کی ترقی و پیشرفت کو روکنے کی کوشش کرنا ہے اور ایران کے ساتھ یاٹا کے تعاون کو روکنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب تک ایران کے خلاف پابندیوں کی چار قراردادیں پاس کر چکی ہے جو عملی طور پر ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام علاقے اور دنیا کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یورپی یونین کا ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے چلے ہوئے کارتوس کو دوبارہ چلانا اس یونین کے لیے اپنے اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے تعاون کے مواقع کو ضائع کرنا ہے۔ایران کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں امریکہ کی اندھی تقلید ہے لیکن اس سے نہ صرف اسے کوئي فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ اسے بعد میں پشیمان بھی ہونا پڑے گا۔امریکہ اور یورپی یونین ایک ایسے وقت میں دنیا میں انسانی حقوق کی حمایت کے دعویدار ہیں کہ جب برطانیہ فرانس یونان اسپین اور امریکہ میں ہونے والے مظاہرے اور ان کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال پوری دنیا بار بار دیکھ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائے عامہ کے نزدیک مغربی ملکوں کی انسانی حقوق کے بارے میں پالیسیاں اپنا رنگ کھو چکی ہیں اور دنیا والے اب ابوغریب اور گوانتانامو جیلوں کو امریکہ کے نام سے جانتے ہیں اور یہ چیز جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کے نام نہاد دعووں سے فراموش نہیں ہو گي۔کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف پروپیگنڈا اور انسانی حقوق کا شوروغل ایک تیر سے دو نشانے کی پالیسی کا مصداق ہے۔ کیونکہ امریکہ کو علاقے میں اسلامی بیداری پر تشویش ہے اور اسی بنا پر ایک طرف تو وہ ایران کا چہرہ مسخ کرکے اسے علاقے کی قوموں کے لیے نمونہ عمل بننے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری جانب وہ پابندیوں کی پالیسی پر توجہ مرکوز کر کے ایران کو ترقی و پیشرفت سے روکنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوری نظام کو نقصان پنہچانا چاہتا ہے۔........../169