تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی برائےانسانی حقوق کے سربراہ نے ایک مراسلے کے ذریعے انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں پر پولٹیکل ایجنٹ کرم شہاب علیشاہ کو اکیس ستمبر بروز بدھ اسلام آباد میں طلب کرلیا تھا۔ذرائع کے مطابق پی ا۔ے۔ کرم سے پاراچنار پریس کلب کی حدود میں مقامی صحافیوں پر شدید ترین تشدد، پاراچنار میں پرامن و نہتے احتجاجی طلبا پر ڈائرکیٹ فائرنگ و اقدام قتل، گذشتہ پانچ سال سے پاراچنار کے محاصرہ اور ٹل پاراچنار روڈ کی مسلسل بندش سمیت چھپری چیک پوسٹ پر مال گاڑیون سے فی ٹرک لاکھوں روپے بھتہ لینے اور (اطلاعات کے مطابق) یہ بھتہ پولٹیکل انتظامیہ و طالبان کمانڈر فضل سعید کے درمیان مشترکہ طور پر تقسیم ہونے سمیت سرکاری کانوائے کے نام پر بچوں و خواتین سمیت بے چارے عوام کو کھلے ٹرکوں میں جانوروں کی طرح بٹھا کر علی زئی تا ٹل چند کلومیٹر کے فاصلے پر فی مسافر پانچ سو سے ہزار روپے کرایے کے نام پر بٹورنے جیسے سنگین الزامات کے بارے میں پوچھا جانا تھا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی برائےانسانی حقوق کے سربراہ نے مذکورہ مراسلے کی ایک ایک کاپی فاٹا سیکٹریٹ اور گورنر کو بھی برائے اطلاع بھیج دی تھی۔
قائمہ کمیٹی برائےانسانی حقوق نے 21 ستمبر کو پی اےکرم کو طلب کر لیا تھا لیکن پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی کی بھتہ خوری کا کیا ہوا اور کیا انہیں واقعی بلایا گیا؟ کیا ان سے یہ سب سوالات پوچھے گئے اور اگر ہاں تو ان کا جواب کیا تھا؟ کیا ان کو قائمہ کمیٹی بلوانے سے واحد محب وطن قبائلی ایجنسی کے پانـچ سالہ مصائب میں کوئی کمی آئے گي؟ کیا علاقے کی ناکہ بندی اٹھ جائے گي؟ اور ہزاروں سوال اور۔ ہر قتل، ہر اغوا، ہر حملہ، ہر جارحیب، دواؤں اور اشیاء خورد و نوش کی کمی سے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کے انتقال کا ہر واقعہ ایک سوال ہے لیکن ہے پاکستان میں کوئی جو ان ہزاروں سوالات کا جواب دے؟
حقانی ٹیرر نیٹ ورک بھی اپنی جگہ بہت بڑا سوال ہے، اس کا جواب کون دے گا؟ کیا کرم ایجنسی کو قائمہ کمیٹی میں بلوا کر اس بات کا جواب بھی طلب کیا گیا؟ یا پھر اس سوال کا جواب اسلام آباد والوں کے پاس ہے؟
کیا کرم ایجنسی کو قائمہ کمیٹی میں بلوانا ایک ڈرامہ نہیں ہے جس کے ذریعے مظلوم عوام کا منہ بند کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔
/11-