ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چھیاسٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ گرچہ اقوام متحدہ کا آئيڈیا عالم انسانیت کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے لیکن عالمی اداروں پر مسلط لوگوں کی کوشش ہے کہ عالمی برادری کو مفاہمت اور مشترکہ تعاون سے مایوس کریں لیکن ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ ہم حقیقی معنی میں باہمی تعاون کے ھدف تک پہنچ سکتے ہیں۔
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ حقیقی آزادی ، عدل و انصاف، سربلندی، فلاح و بہبود اور پائدار امن تمام قوموں کا حق ہے اور ان اقدار کا حصول عالمی اداروں پر مسلط غیر صالح افراد یا مستکبروں کی مداخلت یا بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ خود مختاری اور ایک دوسرے کےحقوق کو تسلیم کرکے نیز اتحاد و تعاون سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور سے صلح و امن، ترقی و برادری کی طرف انسان کے رجحان کے باوجود ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ جنگیں ، قتل عام، وسیع پیمانے پرپھیلی غربت، اقتصادی ، سماجی، اور سیاسی بحرانوں، تعصبات اور امتیازی رویوں، تحقیر، خود غرضی اور بدامنی، سے قوموں کے حقوق اور وقار کو پامال کیا جارہا ہے اور قومیں ناقابل تلافی نقصانات اور مسائل کا شکار ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں اس بات کا مزید موقع نہيں دینا چاہیے کہ اقوام متحدہ اپنی حقیقی پوزیشن سے جو قوموں کے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے عبارت ہے گرتی جاے اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہتھکنڈے میں تبدیل ہوتی جاے، انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم پائدار امن و سلامتی کے قیام کےلئے منصفانہ طریقوں سے قوموں کی شراکت عمل کا ماحول فراہم کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو غیر منصفانہ قرادیتےہوئے کہا کہ حقیقی معنی میں اور مکمل اقوام متحدہ کی تشکیل کے لئے تبدیلیاں اور اصلاحات بنیادی ضرورت ہے جس پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو توجہ کرنی چاہیے۔ صدرجناب احمدی نژاد نے کہا کہ آج دنیا میں ہر زمانے سے زیادہ اسلامی بیداری پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہرزمانے سے بڑھ کر اسلامی علاقوں، ایشیا اور یورپ و امریکہ میں بیداری آرہی ہے اور ہرروز عدل و انصاف اور حریت پسندی پرمبنی تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایران اقوام عالم کے اس عزم و ارادے کے مطابق ان تبدیلیوں کو عملی شکل دینے کے لئے تیار ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنے خطاب میں عالمی رائے عامہ کے سامنے پہلی اور دوسری جنگ عظیم، ویتنام جنگ اور کوریا کی جنگ کے ذمہ داروں نیز عراق اور افغانستان پرقبضہ کرنےوالوں کے بارے میں سوالات پیش کئے تو بعض مغربی ملکوں کے نمائندے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ وہی بردہ داری اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور اسکے بعد کی بدامنی کے ذمہ داروں اور سامراجیوں نے اس زمانے سے لے کر آج تک اپنے چہرے بدل کر سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اقتصادی اور سیاسی مراکز پر تسلط جمارکھا ہے جبکہ وہ عالمی برادری کا انتظام چلانے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کے دعویدار بھی ہیں۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ بعض یورپی ممالک ہولوکاسٹ کے بہانے چھے دھائياں گذرنے کے باوجود بدستور صہیونیوں کو تاوان ادا کررہے ہیں اور اس درمیان فلسطین کی مظلوم قوم ان کے جرائم کا تاوان ادا کررہی ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے گذشتہ برس میں پاکستان کے سیلاب ، جاپان کی سونامی اور صومالیہ کے قحط سے متاثر ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے سب سے اپیل کی کہ ان مصیبوں میں گرفتار لوگوں کی مدد جاری رکھیں۔.....
/169