ابنا: مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل) پر فلسطینی مجاہدین کے راکٹ حملوں کو روکنے کے جواب میں غزہ پر حملے روکنے پر صہیونی ریاست کی رضامندی کے کچھ ہی دیر کے بعد خبری ذرائع نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے جنگي طیاروں نے بدھ کی صبح غزہ پر پھر ہوائي حملہ کیا جس میں کم از کم ایک فلسطینی شہید اور کئي زخمی ہو گئے۔ اسرائیل نے صہیونی فوجیوں کی بس پر حملے کے بہانے گزشتہ جمعرات سے غزہ پٹی پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جبکہ عملی طور پر اس علاقے پر صہیونی فوج کے حملے برسوں سے جاری ہیں اور کبھی بھی مکمل طور پر نہیں رکے ہیں۔ صہیونی ریاست پہلے جنگ بندی معاہدے کے مطابق کہ جو دو ہزار نو میں غزہ پرصہیونی ریاست کے وحشیانہ حملے کے اختتام پر فلسطینی گروہوں کے ساتھ منعقد ہوا، اس بات کی پابند تھی کہ وہ غزہ پٹی پر حملے روک دے گي۔ اس سال اسرائیل نے غزہ پر بائیس روز تک وحشیانہ طریقے سے بری بحری اور ہوائي حملے کیے جن میں کم از کم چودہ سو فلسطینی شہید ہو گئے جن میں چار سو خواتین اور بچے بھی شامل تھے جبکہ پانچ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل کی سیاسی اور سکیورٹی کابینہ نے اپنے کل کے اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ پر حملہ کرنے سے گریز کرے گي اور اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ بالواسطہ تعاون کرے گي۔ اس سے قبل فلسطین کی منتخب حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے صہیونی ریاست کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ جب تک صہیونی ریاست جنگ بندی کی پابندی کرے گي، فلسطینی گروہ بھی جنگ بندی کا احترام کریں گے۔ اسی دوران تحریک جہاد اسلامی فلسطین نے غزہ پر صہیونی ریاست کے آج کے حملے کی کہ جس میں اس تحریک کا ایک رکن شہید ہوا ہے، مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کا بھرپور جواب دے گي۔ اس تحریک نے فلسطینی رہنماؤں کو اسرائیلی حکام کی دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی دھمکیوں سے نہ صرف فلسطینی عوام خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ صہیونی جارحین کے مقابل ان کا عزم مزید پختہ ہو گا۔............
/169