اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ استبداد نے اپنے چھوٹے آقا اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کو صہیونی آباد کاروں سے الگ کرنے کے لئے صہیونی منصوبے کی تقلید کرتے ہوئے آل خلیفہ خاندان کے محلات، غیرشیعہ بیرونی آبادکاروں کے علاقوں اور بعض حساس تنصیبات کو محروم اکثریتی شیعہ آبادی سے الگ کرنے کی غرض سے کنکریٹ کی ایک اونچی دیوار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔المنار ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے: بحرین میں غاصب آل خلیفہ خاندان اور اس کی مدد کو آنے والے جارح و قابض آل سعود کی جانب سے جبر و تشدد، عوام سے روزگار چھیننے نیز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب سے عوامی احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے اور عوام اپنے روز کے مظاہروں میں آل خلیفہ خاندان کی حکمرانی کے خاتمے اور اسیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب سے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے اسرائیل کے طرز پر ایک اونچی کنکریٹ دیوار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعے بحرین کو بھی فلسطین کی مانند دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور بحرین کے اہم اور حساس علاقوں کو محروم شیعہ علاقوں سے الگ کیا جاسکے گآ۔ بحرین میں المنار کے نامہ نگار "رضا الشاب" نے کہا: بحرین میں کنکریٹ کی دیوار یا جدائی کی دیوار (Separation wall) کی تعمیر کسی فرضی مضمون یا خیالی افسانے کا عنوان نہیں ہے بلکہ ایسی حقیقت ہے جو بحرین میں حقیقت کا روپ دھر چکی ہے جہاں کا بادشاہ عوام سے تنگ آچکا ہے اور اس کا خاندان بھی عوام کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہے چنانچہ بادشاہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے اعلان تک ملکی عوام سے الگ تھلگ رہے گا۔ گذشتہ کئی مہینوں سے – جب سے اسرائیل کے نوکروں نے اس ملک پر قبضہ کرلیا ہے اسرائیلی نسل پرستانہ دیوار کی نقل اتارنے کا سلسلہ جاری ہے، انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعویدار ممالک میں بنی ہوئی مشینوں کے ذریعے کھدائیاں ہو رہی ہیں اور نسل پرستی اور فرقہ پرستی کی یہ دیوار شیخ خلیفہ شاہراہ کے ساتھ ساتھ یا دیوار کھڑے ہوگی۔ یہ دیوار وادی السیل سے شروع ہوگی اور صخیر کے علاقے میں واقع بحرین یونیورسٹی تک تعمیر کی جائے گی۔ اس دیوار کے ذریعے حمد بن عیسی، وزیر اعظم، ولیعہد اور خلیفی خاندان کے افراد کی رہائشگاہوں، قدرہ، سافرہ اور رفاع نامی دیہاتوں، شیخ عیسی ائیر بیس، بیرونی آبادکاروں کو دی گئی زمینوں کو محروم شیعہ علاقوں سے الگ کیا جائے گا۔ اس دیوار کے ذریعے ملک کا بیشتر علاقہ شہریوں کی دسترس سے خارج کیا جائے گا اور صرف وہ لوگ اس علاقے میں داخل ہو سکیں گے جن کو آل خلیفہ حکومت اجازت دے گی؛ بالکل اسرائیلی دیوار کی مانند۔الشاب نے کہا: دوسری طرف سے سرکاری اور نجی اداروں سے ملازمین کی برخاستگی، عوام پر حملوں، گرفتاریوں اور جبر و تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب تک 2300 ملازمین بے روزگار کئے گئے ہیں اور کسی بھی ملازم کو اس ظالمانہ اور نسل پرستانہ اقدام کا کوئی قانونی جواز نہیں بتایا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف سے حکومت ہزاروں بیرون ملکیوں کو شہریت دے رہی ہے اور ساتھ ساتھ قومی مذاکرات کے دعوے بھی کررہی ہے۔ ادھر مذاکرات کی ناکامی کے اثرات نمودار ہونے اور مذاکرات کے عمل میں شریک بحرینی جماعتوں کے واک آؤٹ کے ساتھ ہی نویدرات، سنابس، سترہ، ابو سیبا، الدیر، المصلا، معامیر اور بحرین کے دوسرے علاقوں میں زبردست مظاہرے ہوئے ہيں اور عوام نے آل خلیفہ حکومت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے جبر و تشدد کے خاتمے، اسیروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، سیاسی اور سماجی آزادیوں نیز سرکاری فورسز کو تشدد سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ خلیفی غاصبین اور سعودی جارحین نے عوام کو جبر و تشدد کے ذریعے منتشر کرنا چاہا تو مظاہرین اور سعودی – خلیفی گماشتوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ نمائشی مذاکرات سے بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جمعیۃالوفاق" کے واک آؤٹ کے بعد بحرین سیاسی حوالے سے نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جس کو بعض مبصرین نے مبہم مرحلہ قرار دیا ہے۔
..........
/110